Saddam has 47 days to get out
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷
کی فکریں مقابل تو جہ بناتے ہیں اور لیڈر لوگ خوش نما تقریروں کے ذریعہ ۔ مردوں اور عورتوں کے ایک مشترک اجتماع میں خطاب کا موقع ملا۔ خطاب کے بعد کچھ سوالات سامنے۔ ایک خاتون کی طرف سے ایک تحریری سوال آیا، اس کا خلاصہ یہ تھا: جب کسی کے برے سلوک سے دل کو سخت رنج پہنچتا ہے تو اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
میں نے سوچا کہ اس سوال کا جواب تو قرآن و حدیث میں انتہائی واضح ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ ایسے مواقع پر معافی اور درگزر سے کام لو، تم اگر بندوں سے درگزر کرو تو خدا قیامت کے دن تم سے درگزر کا معاملہ فرمائے گا۔ ان واضح ہدایات کے باوجود کیوں ایک دین دار اور تعلیم یافتہ خاتون ایسا سوال پوچھ رہی ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ ان لیڈروں نے موجودہ زمانہ میں جو سب سے بڑی دھوم مچائی وہ غیر اقوام کے "برے سلوک" پر فریاد واحتجاج کا مظاہرہ تھا۔ اسی قسم کی سطحی تقریروں اور تحریروں پر انھوں نے پوری قوم کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن وحدیث کی مذکورہ تعلیم پوری قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ مسلمانوں کو صرف یہ سکھایا گیا کہ تھیں اشتعال انگیزی پر مشتعل ہونا ہے ۔ رنج کا تجربہ ہونے پر تم کو شدت کے ساتھ اس کے خلاف رد عمل کا اظہار کرنا ہے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ قوم کے افراد قرآن کی ان تعلیمات کی اہمیت کو سمجھیں جن میں عفو و درگزر اور صبر و اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔
روزنامہ آرنج کاؤنٹی رجسٹر ( ۳۰ نومبر ۱۹۹۰) کے پہلے صفحہ پر سنسنی خیز خبر تھی —— صدام حسین کو کویت سے نکل جانے کے لئے صرف ۴۷ دن :
Saddam has 47 days to get out
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues