Al-Risala · August 1991 · page 38

Saddam has 47 days to get out

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے تقریباً متفقہ طور پر یہ ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ عراق کے صدر صدام حسین ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ء تک بلاشرط کویت کا علاقہ خالی کردیں ، ورنہ امریکہ کو حق ہوگا کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کرے ۔

اس خبر کو میں نے پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر انسان کا ہے ، حتیٰ کہ خود مذکورہ الٹی میٹم دینے والوں کا بھی ۔ ہر انسان جو اس دنیا میں اپنی زندگی گزار رہا ہے ، اس کو خدا کی طرف سے قطعی آگا ہی دے دی گئی ہے کہ تمہارے لئے صرف ” ۴م دن “ کا موقع ہے ۔ یا تو تم اس مدت میں اپنی سرکشی چھوڑ دو ، ورنہ تم کو خدا کی دنیا چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد تمہارے لئے بربادی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ ہوگا۔ لوگ دوسروں کے خلاف الٹی میٹم دینے میں مشغول ہیں ، خود اپنے خلاف الٹی میٹم کی کسی کو خبر نہیں ۔ امریکہ میں " پیپر ردی والا " جیسی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی ۔ کیونکہ یہاں اخباروں کو ردی میں بیچنے کا کوئی رواج نہیں ۔ یہاں اخبارات کا واحد استعمال یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد انھیں کوڑے میں ڈال دیا جائے ۔ جب کہ ہندوستان میں آدمی اخبارات کو ردی میں بیچ کر ان کی تقریباً نصف لاگت واپس حاصل کر لیتا ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ میں اخبارات اور میگزین نہایت عام ہیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی قیمتیں بہت کم ہوتی ہیں ۔ یہاں اخبار والے صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے اخبار کو پڑھیں ۔ کیوں کہ ان کی قیمت تو انھیں ان کے مشتہرین ادا کر چکے ہوتے ہیں ۔

یہاں میں روزانہ اخبار پڑھتا تھا ۔ مگر پوری مدت میں یہاں کے اخبارات میں ہندوستان کی کوئی خبر پڑھنے کو نہیں ملی ۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملکوں کی خبریں تھیں ۔ مگر ہندوستان کی کوئی خبر نہیں ۔ البتہ ہندوستان میں کوئی بڑا فساد ہو جائے تو اس کی خبر ضرور یہاں کے اخباروں میں چھپتی ہے ۔ اس طرح کی خبریں یہاں کے لوگوں کو یہ تسکین فراہم کرتی ہیں کہ صرف ہمارا سماج مذہب سازش ، فرقہ دراری ، دہشت، اور بربريت کا شکار اور کوئی نہیں ۔ اس اعتبار سے دیکھئے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page