Saddam has 47 days to get out
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹
دہلی کا وقت ہے۔ اور کیلی فورنیا اور دہلی کے وقت میں ساڑھے دس گھنٹہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس وقت جب کہ میں کیلی فورنیا میں ساڑھے گیارہ بجے دن کی روشنی میں بیٹھا ہوا ہوں، دہلی کے کے لوگ ایک بجے رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کے اندر سورہے ہوں گے۔ کیلی فورنیا میں آج ۲۹ نومبر کی تاریخ ہے۔ مگردہلی کا انسان اس وقت نومبر کی ۳۰ تاریخ میں داخل ہو چکا ہے۔ کیلی فورنیا میں اس وقت تمام سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں، جب کہ دہلی میں تمام انسانی سرگرمیاں رات کے سناٹے میں روپوش ہو چکی ہیں۔
زمین کی سطح پر رات اور دن کا یہ فرق سورج کے سامنے زمین کی گردش سے پیدا ہوتا ہے۔ خلائے بسیط میں زمین کی یہ گردش اتنی حیران کن ہے کہ اس کے بارے میں سوچ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آدمی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر پڑے۔ انوار حسن صاحب (۴۵ سال) ایک امریکی کمپنی (GHG) میں کام کرتے ہیں۔ اتوار کے دن وہ رضا کارانہ طور پر ایک اسلامک سنٹر میں ”سیکورٹی“ کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ اتوار کے دن اس سنٹر میں کافی مسلمان آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے جو مسلمان یہاں آتے ہیں، وہ امریکیوں کے درمیان تو بہت با اصول طور پر رہتے ہیں۔ ”سر“ کہے بغیر ان سے بات نہیں کرتے۔ مگر جب وہ اسلامک سنٹر میں آتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کسی جنگ میں آگئے ہیں۔
میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجئے۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر جب وہ کسی دفتر یا درس میں جاتے ہیں تو وہاں وہ گاڑیوں کے قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues