Al-Risala · August 1991 · page 40

Saddam has 47 days to get out

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰

ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ موجودہ ممسلمان (کم از کم ان کی اکثریت) اصول کے تحت باقاعدگی اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ صرف ڈر کے تحت باقاعدہ بننا جانتی ہے۔

امریکہ کے مختلف شہروں میں اس وقت اسلامک سنٹر کے نام سے ایک ہزار سے زیادہ ادارے قائم ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنے کے بعد میری رائے یہ ہے کہ عملی حالت کے اعتبار سے یہ ادارے مسلم کلچرل سنٹر ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلامک سنٹر یہ مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی ضرورت کا اظہار ہیں نہ کہ اسلام کے اصولی اور دعوتی تقاضنے کا اظہار۔ امریکہ کے شہروں میں آپ کو بس اور ٹرام اور ریلوے دکھائی نہیں دیں گی۔ اس کے برعکس ان سڑکوں پر ہر وقت کاروں کا مشین سیلاب بہترہتا ہے۔ بظاہر یہ ترقی کی علامت ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہوگا یہ سرمایہ دارانہ استحصال ہے۔ یہاں کے سرمایہ دارمنظم طور پر یہ کوشش کرتے رہتے ہیں یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام قائم نہ ہونے پائے تاکہ ان کی کاریں زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ یہاں رہنے والا ایک شخص نہایت آسانی سے قسط وار ادائیگی کی مبنیاد پر ایک یا زیادہ کار خرید سکتا ہے اور اس طرح دوسری تمام چیزیں بھی۔ اسی طرح یہاں کا تقریراً ہر آدمی اپنی کمائی کا بہترین حصہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اکاؤنٹ میں پہنچاتا ہے، سامان کی ادھار خریداری کی صورت میں، نیز اس کے اوپر مستقل سود کی ادائیگی کے ذریعہ۔

قرض پر بنی اس اقتصادیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کے پاس دین کی مدد میں دینے کے لئے بہت کم رقم باقی رہتی ہے ۔ بظاہر یہاں کا ہر سلمان کافی کمار ہے مگر دین کی مدد میں تعاون دینے کے لئے وہ اپنے آپ کو عاجز پاتا ہے۔

۲ دسمبر کو سین گیبریل (San Gabril Valley) کے اسلامک سنٹر میں تقریب کا پروگرام تھا۔ جناب عبد القادر النجار کے ساتھ یہ سفر طے ہوا۔ موصوف کا خاندان طائف سے اگر حلب (شام) میں آباد ہو گیا ۔ 37 سال پہلے وہ حلب سے امریکہ آگئے ۔ اب وہ یہاں کے شہری ہو چکے ہیں۔ وہ روپوش حد تک دین پسند آدمی ہیں، ملتے اور آتے ہوئے معمولی طور پر ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page