Saddam has 47 days to get out
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱
کلو میٹر کا راستہ ان کے ساتھ گذرا۔
انھوں نے ایک واقعہ کے بارہ میں بتاتے ہوئے کہا : قل الحق ولو علی نفسک (حق بات کہو ، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف کیوں نہ ہو) ، ایک اور واقعہ کے ذیل میں انھوں نے کہا : ان اللہ یمہل ولا یہمل ، اللہ مہلت دیتا ہے مگر اللہ کبھی چھوڑتا نہیں ) روز نامہ آرنچ کاؤنٹی رجسٹر (۴ دسمبر ۱۹۹۰) میں صفحہ اول پر ایک با تصویر خبر ہے۔ تصویر میں ایک جہاز ٹوٹا ہوا پڑا ہے۔ اس کو شعلے گھیرے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ہوائی حادثہ کا قصہ ہے جو امریکہ کی ریاست مستی گان میں ڈیٹرائٹ کے ہوائی اڈہ پر پیش آیا ۔ آٹھ مسافر فوراً مر گئے ۔ بقیہ ۱۸۱ مسافروں میں کچھ زخمی ہوئے ، اور کچھ پریشانی کی حالت میں باہر آئے۔ اس واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا تھا کہ یہ واقعہ اس لئے پیش آیا کہ ایک جہاز (727) ائیر پورٹ کے کہر آلود رن وے (foggy runway) پر چلتے ہوئے دوسری طرف سے آنے والے جہاز کے راستہ میں داخل ہو گیا جو اڑنے والا تھا۔ اس کے بعد ایک جہاز کا پر دوسرے جہاز کے پر میں ٹکرا گیا ۔ ایسا اس لئے ہوا کہ اس وقت ائیر پورٹ پر گہرا کہر چھایا ہوا تھا :
One Northwest Airlines jet strayed into the path of another that was streaming toward takeoff and the two collided in heavy fog on a runway at Detroit Metropolitan Airport. اس خبر کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ” کہر " کا مسئلہ ہر سفر میں پیش آتا ہے ، خواہ وہ مادی سفر ہو یا کوئی ذہنی سفر ۔ آدمی اگر صرف روشن راہوں میں چلنا جانتا ہو، وہ کہر کے راستوں میں چلنے کے آداب نہ جانتا ہو تو اس کا یہی انجام ہوگا کہ وہ مخالف سمت سے آنے والی کسی " سواری " سے ٹکرا جائے گا۔ ایسا آدمی اپنی آخری منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔
۶ دسمبر کو جب کہ سیلی فورنیا میں صبح سویرے کا وقت تھا اور دہلی میں شام کا ، مجھے دہلی سے بات کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ میں نے جناب صغیر اسلم صاحب سے کہا۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues