Al-Risala · August 1991 · page 42

Saddam has 47 days to get out

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲

اپنے ٹیلی فون پر حسب ذیل نمبروں کے بٹن دبائے :

اس کے فوراً بعد دہلی میں ہمارے دفتر میں گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے سوچا کہ جس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ صحیحلی فورنیا کا ایک انسان دہلی کے ایک انسان سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں رابطہ قائم کرلے ، اس دنیا میں کیا یہ ممکن نکیں کہ انسان اپنے خالق سے رابطہ قائم کرسکے۔ دل نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ مگر اس کے لئے اسی طرح کی تدبیر اختیار کرنی ہوگی جو کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم کرنے کے لئے اختیار کی گئی۔ اس ربط کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ ہم مذکور ہ نمبروں کا اہتمام نہ کرتے بلکہ دوسرے غیر متعلق نمبروں پر اپنی انگلیاں مارنے لگتے۔ ایسی حالت میں ہماری کوشش بے فائدہ ہوجاتی۔ اس کے بہانے ہم نے یہ کیا کہ صحیح ترین نمبر معلوم کرکے عین اسی نمبر کے ذریعہ یہ ربط قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ایسا کرتے ہی فورا ً رابطہ قائم ہوگیا۔ اسی طرح خدا سے رابطہ قائم کرنے کا بھی ایک ”صحیح نمبر“ ہے اور ایک ”غلط نمبر“ جو شخص خدا سے رابطہ قائم کرنے کی سنجیدہ خواہش رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ پہلے اس کا ”صحیح نمبر“ معلوم کرے۔ ایسا کرنے کے بعد خدا سے اس کا ربط قائم ہونا اتنا ہی ممکن ہو جائے گا جتنا کیلی فورنیا اور دہلی کے درمیان ربط قائم ہونا۔ یہ صحیح نمبر اپنی ذات کو حذف کرنا ہے۔ جناب صفی قریشی صاحب نے ایک مجلس میں بہت اچھی مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ آجکل مصنوعی سٹلائٹ خلا میں بھیجے جاتے ہیں ۔ یہ سٹلائٹ اوپر جاکر ۲۰۰ میل یا اس سے کم وبیش کی دوری پر زمین کے گرد گھومنے لگتے ہیں ۔ مگر ان کی عمر کی ایک مدت ہے۔ ایک مدت گزرنے کے بعد وہ زمین کی کشش کے دائرہ میں آکر زمین کی طرف کھپنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ نیچے آتے آتے ایک روز زمین پر گر پڑتے ہیں۔ اسی طرح انسان ایک مقرر مدت کے لئے اس دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد اس کا واپسی کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ دوبارہ خدا ہی طرف چلا جاتا ہے۔

۶ دسمبر کو ظہر کی نماز کے بعد آخری بار میں یہاں کے پارک میں گیا۔ پارک کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ملی ہوئی سڑک سے ایک بہت بوڑھا امریکی جوڑا خاص طرح کی کھلی ہوئی چھوٹی گاڑی کو آہستہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page