Al-Risala · September 1991 · page 18

حمیت جاہلیہ نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸

حمیت جاہلیہ نہیں

قرآن کی سورہ الفتح میں اللہ کی اس خصوصی نصرت کا ذکر ہے جو اصحاب رسول کو حاصل ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ انھوں نے صراط مستقیم کو پالیا۔ وہ دشمنوں کے ہاتھ سے محفوظ ہو گئے۔ زمین پر دین خداوندی کا اظہار ہوا۔ مخالفین کے علی الرغم انھیں فتح مبین حاصل ہوئی۔ اصحاب رسول کا وہ کون سا عمل تھا جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی اس خصوصی رحمت و نصرت کے مستحق قرار پائے، اس کا ذکر سورہ الفتح کی مختلف آیتوں میں موجود ہے۔ ایک آیت یہ ہے :

اذ جعل الذين كفروا في قلوبهم جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت الحمية حمية الجاهلية فانزل الله پیدا کی، جاہلیت کی حمیت۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے سكينته على رسوله وعلى المؤمنين سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں والزمهم كلمة التقوى وكانوا احق بها پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، واهلها وكان الله بكل شيئ عليما اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل (الفتح ۲۶) تھے ۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

اس آیت میں اصحاب رسول کے اس رویہ کا ذکر ہے جو انھوں نے واقعہ حدیبیہ کے موقع پر اختیار کیا۔ اس رویہ کو یک طرفہ صبر، یا اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا کہہ سکتے ہیں۔ ۶ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریبا ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ ادا کریں۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے اس معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنالیا۔

آپ کو واپسی پر مجبور کرنے کے لیے انھوں نے مختلف قسم کی جارحانہ کارروائیاں کیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر موقع پر جوابی جارحیت سے بچتے رہے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کی نوبت نہ آئے۔ اس دوران مکہ والوں کی طرف سے مختلف وفد بات چیت کے لیے آتے رہے ۔ آخر کار یہ طے پایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان لمبی مدت کا ایک معاہدہ ہو جائے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page