Al-Risala · September 1991 · page 19

حمیت جاہلیہ نہیں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹

تاکہ دونوں اپنی اپنی حد پر رہیں اور کوئی کسی کے اوپر زیادتی نہ کر سکے۔

حدیبیہ کے واقعہ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ آخری مرحلہ میں جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو قریش مکہ کے نمائندہ کی طرف سے نہایت اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا۔ قریش کے نمائندہ نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے، آپ بسمک اللہم لکھئے۔ پھر آپ نے لکھوایا کہ محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ قریش کے نمائندہ نے اس کو بھی رد کر دیا اور کہا کہ محمد بن عبد اللہ لکھئے۔ یہ باتیں بے حد جگر خراش تھیں مگر صحابہ پر اللہ نے ”سکینت “ اتاری اور وہ ان شرطوں پر راضی ہو گئے۔ اسی طرح قریش کے نمائندہ نے معاہدہ میں یہ لکھوایا کہ مکہ کا کوئی آدمی اسلام قبول کر کے مدینہ چلا جائے تو آپ اس کو ہماری طرف لوٹانے کے پابند ہوں گے۔ اور اگر مدینہ کا کوئی آدمی ہم پر چالیں تو ہم اس کو آپ کی طرف نہیں لوٹائیں گے۔ یہ ایک طرفہ شرط توہین کی حد تک ناقابل برداشت تھی مگر اصحاب رسول نے اللہ کی خاطر اس کو بھی برداشت کر لیا۔ معاہدہ کی کتابت کے دوران مکہ کے ایک مسلمان ابو جندل وہاں آگئے۔ ان کے پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں اور ان کا جسم زخمی ہو رہا تھا۔ قریش کے نمائندہ نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو ہماری طرف واپس کیجئے۔ ابو جندل نے کہا کہ کیا میں کافروں کی طرف لوٹایا جاؤں گا تا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈالیں۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ مگر اپنے کھولتے ہوئے جذبات کو دباکر اصحاب رسول اس مطالبہ پر بھی راضی ہو گئے۔

یہ صحابہ کی شخصیت کا ایک انوکھا پہلو تھا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ جارحیت کے باوجود انھوں نے جوابی کارروائی نہیں کی۔ عمرہ کو وقار کا مسئلہ بنائے بغیر وہ حدیبیہ سے واپسی پر راضی ہو گئے۔ انھوں نے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر جنگ کی حالت کو امن کی حالت میں بدل دیا۔ واقعہ حدیبیہ کے دوران فریق ثانی نے ناقابل برداشت حالات پیدا کیے۔ مگر اصحاب رسول ان کو برداشت کرتے رہے۔ مخالفین کی حمیت جاہلیہ کا جواب انھوں نے اسلامی سکینت کی صورت میں دیا۔ اصحاب رسول کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا۔ اس نے اپنی اعلیٰ تدبیر سے ایسے راستے کھولے کہ اصحاب رسول کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ مکہ کو فتح کر لیں۔ یہود کی جڑیں کاٹ دیں، اور پورے عرب میں اسلام کو ایک غالب دین کی حیثیت سے قائم کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page