Al-Risala · September 1991 · page 20

وقا فَا عند کتابِ الله

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰

وقا فَا عند کتابِ الله

قرآن کی ایک تعلیم وہ ہے جس کو اعراض کہا جاتا ہے۔ یعنی نادان لوگوں کی اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل نہ ہونا، حتی کہ اگر اس قسم کی بات کو سن کر غصہ کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کو شیطانی وسوسہ سمجھ کر اس سے پناہ مانگنا۔ اور ہر حال میں نظر انداز کرنے کے رویہ پر قائم رہنا۔ اس سلسلہ میں قرآن کا حکم یہ ہے : خذ العفو وأمر بالعرف واع درگزر کرو اور نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض عن الجاهلين۔ واما ينزغنك کرو۔ اور اگر تم کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے من الشيطان نزغ فاستعذ بالله آئے تو اللہ کی پناہ چاہو۔ بے شک وہ سننے والا انہ سميع عليم - ان الذين اتقوا جاننے والا ہے۔ جو لوگ اللہ کا ڈر رکھتے ہیں، جب اذا مسهم طائف من الشيطان ان کو شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال چھو جاتا ہے تذكروا فاذا هم مبصرون تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں۔ اور پھر اسی وقت ان واخوانهم يمدونهم في الغي کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو لوگ شیطان کے بھائی ثم لا يقصرون ( الاعراف ۲۰۲ ۔ ۱۹۹) ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔

صحیح البخاری، کتاب التفسير (سورة الاعراف) میں باب خذ العفو وأمر بالعرف واعرض عن الجاهلين کے تحت ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ یہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے :

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس نے ان سے بیان کیا۔ عُیینہ بن حصن بن حذیفہ مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس کے مکان پر ٹھہرے۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جن کو عمر اپنے قریب جگہ دیتے تھے۔ وہ ان کے مشیروں میں سے تھے۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، تم کو امیر المومنین کے یہاں قربت حاصل ہے۔ میری ان سے ملاقات کرا دو۔ اس کے بعد الحر نے عمر سے ملاقات کی اجازت مانگی۔ انھوں نے اجازت دے دی۔

عیینہ جب عمر رض کے یہاں پہنچے تو انھوں نے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے، خدا کی قسم تم ہم کو نہ کچھ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page