Al-Risala · September 1991 · page 21

وقا فَا عند کتابِ الله

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱

مال دیتے ہو اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہو۔ عمر یہ سن کر غصہ میں آگئے اور ان پر اقدام کرنا چاہا۔ اس وقت الحر بن قیس نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین، اللہ تعالی نے قرآن میں اپنے نبی کو یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگوں کو معاف کر دو اور معروف کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو (الاعراف 199) اور یہ آدمی بلاشبہ جاہلوں میں سے ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اس کے بعد عمر نے ذرا بھی تجاوز نہیں کیا، جب کہ انھوں نے قرآن کی یہ آیت ان کے سامنے پڑھ دی۔ اور عمر خدا کی کتاب پر بہت زیادہ رک جانے والے تھے (والله ما جاوزها عمر حين تلاها علیه وكان وقّافاً عند كتاب الله)

یہ مثال اصحاب رسول کی ایک اہم صفت کو بتاتی ہے۔ وہ یہ کہ اصحابِ رسول اللہ کی کتاب کے سامنے فوراً ٹھہر جانے والے (وقّافاً عند کتاب الله) تھے۔ خدا کا حکم سامنے آنے کے بعد وہ اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں اور اپنی زبان کو بلاتأخیر روک لینے والے تھے۔ ایک دلیل حق ان کے چلتے ہوئے قدموں میں بیڑی ڈال دینے کے لیے کافی تھی، خواہ اس کے پیچھے کوئی محسوس اور مادی طاقت موجود نہ ہو۔

یہ ایک انتہائی نادر صفت ہے جس کا مظاہرہ صحابہ کرام کے ذریعہ دنیا کے سامنے ہوا۔ جب آدمی کے اندر غصہ بھڑک اٹھے۔ جب اس کے لیے "کا" مسئلہ پیدا ہو جائے تو اس وقت وہ کوئی دلیل سننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جن کو سخت ہیجانی حالت میں بھی قرآن کی ایک آیت خاموش کر دینے کے لیے کافی ہوتی تھی۔

موجودہ دنیا میں خدا کا حکم لفظ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مگر ایک لفظی حکم سن کر ان کا یہ حال ہوتا تھا گویا کہ خود خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ہو۔ جس آدمی سے اختلاف پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ عدل کا رویہ برتنا، جس آدمی نے انا پر چوٹ لگائی ہے اس کے مقابلہ میں صبر کر لینا، جس آدمی نے اپنے بے ڈھنگے پن کی وجہ سے غصہ بھڑکا دیا ہے اس کے خلاف اپنے غصہ کو برداشت کر لینا، جس آدمی نے تحقیر و تذلیل کا انداز اختیار کیا ہے اس سے انتقام نہ لینا، یہ سب اعلیٰ ترین انسانی اوصاف ہیں۔ صحابہ کرام وہ مثالی لوگ ہیں جو ان اوصاف میں کمال کی حد تک پورے اترے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page