سنتِ خداوندی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲
سنتِ خداوندی
غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب پر نظر ڈالی تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے ۔ پھر آپ نے مشرکوں کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار سے زیادہ تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر سجدہ میں گر پڑے ۔ اور آپ کے اوپر آپ کی چادر تھی ۔ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے :
اللهم أنجز لي ما وعدتني اللهم ان اے اللہ ، اس وعدہ کو پورا فرما جو تو نے مجھ سے تهلك هذه العصابة من اهل الاسلام کیا ہے ۔ اے اللہ ، اگر تو اہل اسلام کے اس گروہ فلا تعبد بعد في الارض ابدا کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری (البدایہ والنہایہ ۲/ ۲۷۵) عبادت نہ ہوگی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جیش اسامہ کی شام کی طرف روانگی اسلامی تاریخ کا نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس وقت عرب میں بغاوت پھیل گئی تھی۔ مگر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق کے اس مومنانہ اقدام نے از سرِ نو اسلام کا دبدبہ قائم کر دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا :
والله الذي لا اله الا هو، لولا ان اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اگر أبا بكر استخلف ما عبد الله (رسول اللہ کے بعد) ابو بکر کو خلیفہ نہ بنایا جاتا تو اللہ (البدایہ والنہایہ ۶/ کی عبادت نہ ہوتی ۔
یہ دونوں قول بظاہر بہت عجیب ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے جب یہ کہا تو سننے والے بولے کہ اے ابو ہریرہ چپ رہو (مہ یا اباھریرہ) مگر یہ الفاظ عین حقیقت واقعہ کا اظہار تھے ۔ اصل یہ ہے کہ اس قول کا تعلق اللہ کی سنت سے ہے نہ کہ اللہ کی قدرت سے ۔ اللہ کے لیے بلا شبہ یہ ممکن ہے کہ وہ ہواؤں کے ذریعہ تمام مشرکوں کو ہلاک کر دے اور ایک لفظ کن کے ذریعہ تمام انسانوں کو اپنا عبادت گزار بنادے۔ مگر موجودہ امتحان کی دنیا میں خود اللہ کے اپنے فیصلہ کی بنا پر ایسا نہیں ہوتا ۔ یہاں سارا کام اسباب و علل کے پردہ میں انجام دیا جاتا ہے ۔ مذکورہ قول
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues