نہیں میں ہے کو دیکھنا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۱
یہاں اظہارِ رائے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ لوگ نہ صرف آپس میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے تھے بلکہ حاکموں اور سرداروں کے اوپر بھی آزادانہ تنقید کی جاسکتی تھی۔ اور نہ حاکم اس کو برا مانتا تھا اور نہ عام لوگ۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کتنے زیادہ بڑے دل والے لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو اتنی زیادہ بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ کیونکہ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جتنا بڑا دل، اتنی ہی بڑی کامیابی۔
اس دنیا میں خود تخلیقی فطرت کے تحت ایسا ہے کہ لوگوں کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔ جو شخص جتنا زیادہ باصلاحیت ہو اتنا ہی زیادہ وہ منفرد انداز سے سوچتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی طاقتور ٹیم بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے افراد میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہو۔ خاص طور پر سربراہ کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ سخت ترین تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سنے۔ وہ اختلاف اور اتفاق سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے۔
جو لوگ اپنے اندر یہ صفت رکھتے ہوں، وہی اپنے گرد اعلیٰ انسانوں کی ٹیم جمع کر سکتے ہیں اور ان کو ساتھ لے کر کوئی بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ صفت نہ ہو ان کے گرد صرف سطحی اور خود غرض اور منافق قسم کے لوگ جمع ہوں گے، اور سطحی اور خود غرض اور منافق قسم کے لوگوں کی جماعت اس دنیا میں کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتی۔
اصحاب رسول وہ بلند نظر اور اعلیٰ فطرت انسان تھے جن کو نہ تعریف خوش کرتی تھی اور نہ تنقید کو سن کر وہ برہم ہوتے تھے۔ خدا کو انھوں نے ایسی عظیم ترین حقیقت کے طور پر پایا تھا کہ اس کے بعد ان کے لیے ہر دوسری چیز چھوٹی ہو گئی تھی۔ وہ برتر خدا میں جینے والے لوگ تھے۔ اس لیے تنقید واختلاف جیسی چیزیں ان کے ذہنی سکون کو برہم نہیں کرتی تھیں۔
اصحاب رسول کا ایک ایک شخص ہیرو تھا۔ مگر ان کی یہی خصوصیت تھی جس کی بنا پر وہ سب مل کر ایک مستحکم دیوار بن گئے۔ ان کے ساتھ ہر قسم کی ناخوش گوار باتیں پیش آئیں، مگر وہ ان کے اتحاد کو توڑ نہ سکیں۔ وہ ان کے استحکام میں رخنہ ڈالنے والی ثابت نہیں ہوئیں۔ اس قسم کی تمام خرابیاں اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور اختلاف کو پہلے ہی وہ اپنے لیے ایک ناقابلِ لحاظ چیز بنا چکے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues