نیا دور
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴
جو لوگ ہندی اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں، انھیں یہ بات معلوم ہے کہ اس معاملے میں ہند و تعلیم یافتہ لوگوں نے کثرت سے ایسے مضامین اور خطوط شائع کرائے ہیں جو حد درجہ حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پر مبنی ہیں۔ جن لوگوں کو ہندی اور انگریزی اخبارات کے مطالعہ کا موقع نہ ملا ہو وہ مسلمانوں کے اردو اخبارات میں بھی ان کے اقتباسات دیکھ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہندو قوم واضح طور پر دو طبقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک عوام کا طبقہ ، اور دوسرے ان کے خواص کا طبقہ۔ یہ صحیح ہے کہ شمالی ہند کے ہندو عوام کی ایک تعد اد رام جنم بھومی کے ساتھ ہے۔ مگر دوسرا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ ہندو اور اسی کے ساتھ جنوبی ہند کے تقریباً تمام ہندو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ رائے رکھتے ہیں جو واضح طور پر مسلمانوں کی موافقت میں ہے۔
ماضی میں مسلمان اس حقیقت کا شعوری ادراک نہ کر سکے تھے۔ اب اپنے نئے ذہن کے تحت ان شاء اللہ وہ اس حقیقت کا بھر پور ادراک کریں گے اور اس کے مطابق اپنے ملی منصوبوں کی تشکیل کریں گے۔
ہم۔ وشو ہندو پر شد کے جنرل سکریٹری مسٹر اشوک سنگھل نے ۷ نومبر ۱۹۹۰ء کو نئی دہلی میں ایک تقریر کی ۔ انھوں نے اپنی اس تقریر میں جو باتیں کہیں ، ان میں سے ایک بات ، ٹائمس آف انڈیا (۸ نومبر ۱۹۹۰ ) کی انگریزی رپورٹنگ میں ان الفاظ میں تھی :
He said Muslims should realise politicians cannot save them. If anybody can save them, it is the Hindu. They should learn to coexist with us and we will protect them, for every Hindu is secular. مسٹر سنگھل نے ایک مناسب بات غیر مناسب الفاظ میں کہی ہے۔ اس بات کو کہنے کے لئے زیادہ صحیح الفاظ یہ ہیں کہ مسلمانوں کا مسئلہ کوئی بھی حکمران حل نہیں کرے گا۔ مسلمان اپنا مسئلہ صرف اپنی کوشش سے حل کر سکتے ہیں۔
آزادی کے بعد مسلمان غلط رہنمائی کے نتیجہ میں ، ہمیشہ حکومت اور انتظامیہ کی طرف دیکھتے رہے ۔ وہ الیکشن کے مواقع پر پارٹیوں کو ہرا کر یا جتوا کر ان سے بڑی بڑی امیدیں باندھتے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues