Bertrand Russell, Why I am not a Christian, p. 9
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶
دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس یورپ کا ایک کمزور ملک بن گیا تھا۔ اس کی ریلوے یورپ کی سب سے زیادہ ناقص ریلوے تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرانس نے اپنے اوپر افریقہ کے مقبوضات (الجیریا وغیرہ) کا بوجھ لاد رکھا تھا جن کو وہ فرانس کا حصہ کہتا تھا۔ فرانس کے سابق صدر جنرل ڈیگال نے طے کیا کہ افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا جائے۔ ڈیگال کا یہ فیصلہ فرانس کے قومی وقار کے خلاف تھا۔ لوگوں نے کہا کہ ڈیگال فرانس کو پست اور ذلیل کر دینا چاہتا ہے۔ ڈیگال نے ۱۹۷۰ میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا :
فرانس اس وقت ڈھلوان پر جا رہا ہے۔ میرا مشن یہ ہے کہ اس کو او پر اٹھاؤں، جب کہ دوسرے لوگ اس لئے چیخ پکار کر رہے ہیں کہ اس کو دوبارہ نیچے کی طرف دھکیل دیں (ٹائم میگزین ۱۵ جولائی ۱۹۹۱) ڈیگال نے اپنی نامقبولیت کا خطرہ مول لے کر افریقہ کے مقبوضات کو آزاد کر دیا۔ اس کے فوراً بعد فرانس ترقی کرنے لگا۔ آج فرانس دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے۔ مستقبل کی ترقی کے لئے حال کی بے ترقی کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس قربانی کے بغیر کسی کو ترقی کا اعلی مقام حاصل نہیں مل سکتا۔
ٹرین کے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے ملک کے جس پہلو کو دیکھا جائے اس پر پسماندگی کی چھاپ پڑی ہوئی نظر آئے گی۔ اس کا سبب بنیادی طور پر ایک ہے۔ اور وہ ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ ۱۹۴۷ میں جب ملک آزاد ہوا تو اس کی لیڈرشپ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں چلی گئی جوذ ہنی طور پر پوری طرح سوشلسٹ تھا۔ سابق وزیر اعظم جواہرلال نہر و آزادی سے پہلے اپنی آپ بیتی میں لکھ چکے تھے کہ ہمارے مسائل کا کوئی بھی حل اشتراکی نظام (Socialist order) کے سوا نہیں ہے، پہلے قومی دائرہ میں ، اور پھر ساری دنیا میں ، جس میں دولت کی پیدائش اور تقسیم ریاست کی نگرانی میں مفاد عامہ کے لحاظ سے کی جائے (آٹو بائیو گرافی ، لندن ۱۹۳۶ ، صفحہ ۵۲۳) جس اشتراکی نظام نے روس کو برباد کیا ، اسی نے انڈیا کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues