Al-Risala · October 1991 · page 37

Bertrand Russell, Why I am not a Christian, p. 9

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷

میرے ایک ہم سفر نے ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ کا ہندی اخبار "آج" خریدا۔ میں نے دیکھا تو اس کے اندر کے صفحہ پر ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا: پنڈت نہرو بنام من موہن سنگھ۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ موجودہ وزیر مالیات نے کس طرح نہرو کی سابقہ اقتصادی پالیسی کو بدل کر اس کو بالکل دوسرے رخ پر ڈال دیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے (۱۵ اگست) نے اس انقلابی واقعہ پر سرخی لگائی ہے کہ لائسنس راج کا خاتمہ (Ending the Licence Raj) ٹائم میگزین (۵ اگست) نے اس کے بارہ میں دو صفحہ کی رپورٹ چھاپی ہے اور اس کی سرخی یہ ہے :

After nearly a half-century of socialist controls, a new government ven- tures to catch the free-market winds sweeping the world. (p. 22)

کانگریس پارٹی کا ٹاڈنٹ ڈوی سلی سشن جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں ہوا تھا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے تالیوں کی گونج میں یہ رزولیوشن منظور کروایا کہ ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج (Socialistic pattern of society) بنایا جائے گا (نیشنل ہیرالڈ ۲ جنوری ۱۹۵۵)

اسی زمانہ میں راقم الحروف نے ۴۸ صفحہ کی ایک کتاب (ہندوستان کی منزل) شائع کی تھی ۔ اس میں بتایا تھا کہ سوشلزم ہمارے ملک کو تباہ کر دے گا۔ آج یہ الفاظ واقعہ بن چکے ہیں۔ اب موجودہ وزیر اعظم نرسمہا راؤ اس سوشلسٹ کھنڈر پر ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں اس کی کامیابی کے بارہ میں زیادہ پر امید رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ ۱۹۱۷ میں جب روس میں اشتراکی انقلاب آیا تو اس نے اتنے طاقت ور انداز میں اس کی فرضی خوبیوں کا پروپگنڈا کیا کہ ساری دنیا میں سوشلزم کا لفظ ترقی پسندی کا نشان بن گیا۔ مگر 75 سال بعد آج ہر شخص سوشلزم کو بربادی کا جیل خانہ سمجھ رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک نظر یہ لفظی طور پر انتہائی حسین ہونے کے باوجود عمل طور پر انتہائی حد تک تباہ کن ہو سکتا ہے۔ درمیان میں ایک چھوٹے اسٹیشن پر گاڑی رکی۔ حالاں کہ یہ اس کے رکنے کا اسٹیشن نہ تھا۔ چند منٹ بعد مقابل کی پٹری سے ایک اور ٹرین شور مچاتی ہوئی آئی اور آگے چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ اس دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues

Printed page