Bertrand Russell, Why I am not a Christian, p. 9
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸
ٹرین کو گزارنے کے لئے ہماری ٹرین روکی گئی تھی۔ یہی اس دنیا میں سفر کا قاعدہ ہے۔ یہاں ہر گاڑی کو دوسری گاڑی کے لئے راستہ دینا پڑتا ہے۔ جو گاڑی اس "رعایت" کے لئے تیار نہ ہو وہ خود بھی تباہ ہوگی اور دوسری گاڑی کو بھی تباہ کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔
یہی اصول انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسانی عمل کی شاہراہ پر بھی بیک وقت بہت سے انسان اپنا اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ یہاں بھی کسی کے لئے محفوظ سفر کی ضمانت صرف یہ ہے کہ جب بھی دوسرے کسی انسان سے ٹکراؤ کا اندیشہ ہو تو وہ فوراََ فریق ثانی کی رعایت کے مذکورہ اصول پر عمل کرتے ہوئے اس کو گزرنے کا راستہ دیدے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے وہ کبھی اپنی مطلوبہ منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ گاڑی الہ آباد پہنچی تو ، ۴ جولائی کی صبح نمودار ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے چاروں طرف تاریکی کا غلاف پڑا ہوا تھا۔ اب چاروں طرف روشنی کی بہار نظر آنے لگی۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا جو اللہ تعالیٰ نے بنائی اور پھر اس کو انسان کی تحویل میں دے دیا۔ کوئی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرے۔ ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے ہم کو پیدا کر کے ہم کو جنت دوزخ کے جھنجھٹ میں کیوں ڈالا۔ اس نے ہم کو پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اوپر اللہ کے بے شمار احسانات ہیں اور سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے انسان کے لئے ابدی جنت کے حصول کے امکانات کھول دئے۔ اللہ نے انسان کو غیر موجود سے موجود کیا۔ اس کو حیرت انگیز صلاحیتیں عطا کیں۔ اور پھر اس کو احساس لذت دیا جو ساری کائنات میں انتہائی نادر چیز ہے۔ اور اسی کے ساتھ اس نے ایک ابدی لذت گاہ (جنت) پیدا کی۔ اللہ نے اس ابدی لذت گاہ کی ایک انتہائی وقتی قیمت مقرر کی۔ اس نے کہا کہ جو شخص موجودہ دنیا کی مختصر مدت میں حالت غیب میں خدا کا اعتراف کرے گا اور کسی مجبوری کے بغیر خود اپنے اختیار سے اس کے آگے جھک جائے گا، اس کو موت کے بعد اس ابدی لذت گاہ میں بسنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یہ کتنی بڑی چیز کی کتنی چھوٹی قیمت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ صدیاں گزر گئیں اور آدمی اس جہان لذت کو پانے کا شوق نہ کر سکا۔
آخرت کی اس دنیائے لذت کو پانے کا موقع انسان کو صرف ایک بار ملا ہے۔ اس کے بعد یہ موقع ابدی طور پر ختم ہو جائے گا۔ مگر اس واحد قیمتی موقع کو انسان انتہائی بے دردی کے ساتھ کھو رہا ہے۔ کیسا عجیب ہے وہ انسان جو سب سے بڑی نعمت کے ساتھ سب سے بڑی بے اعتنائی کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues