Patna: The City of Despair
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۱
گایوں اور بھینسوں کو سڑکوں پر پھرنے اور گندگی کرنے کی اجازت نہ تھی۔ مگر اب حالات مختلف ہیں۔ آج مذہبی اور سیاسی اسباب سے ہم گایوں اور بھینسوں کو سڑکوں پر گھومنے سے نہیں روک سکتے: Today for religious and political reasons we may not object to cows and buffaloes having the run of the city. شہری انتظام اور تمدنی امور کو سائنسی تحقیقات کے تابع ہونا چاہئے نہ کہ مذہبی عقائد کے تابع۔ جب بھی ان چیزوں کو مذہبی عقیدہ کے تابع کیا جائے گا، انسانی دنیا میں وہی خرابیاں پیدا ہوں گی جس کا ایک چھوٹا سا نقشہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔
روز نامہ قومی آواز دہلی، لکھنؤ اور پٹنہ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۹ جولائی ۱۹۹۱ میں صفحہ اول پر ایک تصویر ہے جس میں ایک امتحان کا منظر دکھایا گیا ہے۔ طلبہ کی نصف تعداد میز پر ہے اور بقیہ نصف زمین پر بیٹھی ہوئی نقل کرنے میں مصروف ہے۔ پاس ہی دو پولیس مین اور چند نگراں کھڑے ہوئے ہیں۔ تصویر کے نیچے یہ الفاظ درج ہیں : بدھ کو پٹنہ کے ایک مقامی مرکز پر امتحان کے دوران انٹڑ کے طلبہ پولیس اور نگران کی موجودگی میں کھلے عام نقل کرتے ہوئے تصویر : یو این آئی) امتحان میں نقل کرنے کا مرض بہت سی دوسری ریاستوں میں بھی ہے۔ مگر کہا جاتا ہے کہ بہار میں یہ رواج سب سے زیادہ ہے ۔ ہندوستان میں بیشتر لوگ پڑھتے نہیں ، اور جو لوگ پڑھتے ہیں وہ نقل کر کے امتحان پاس کرنا چاہتے ہیں۔ اس بد مذاقی نے علم کا معیار اتنا زیادہ گرا دیا ہے کہ اب پڑھے ہوئے اور بغیر پڑھے ہوئے انسان میں بہت زیادہ فرق باقی نہیں رہا۔
۳۰ جولائی ۱۹۹۱ کو بہار و دھان سبھا نے ایک عجیب قسم کا بل پاس کیا۔ اس کا نام ہے ــ Bihar Bhoodan Yagya (Amendment) Bill 1991 اس قانون کا تعلق اس پندرہ لاکھ ایکڑ زمین سے ہے جس کو اچاریہ و نو با بھاوے ( ۱۹۸۲- ۱۸۹۵) نے لوگوں سے دان (عطیہ) کے طور پر حاصل کیا تھا۔ ابتدائی قانون میں اچاریہ و نو با بھاوے کا نام شامل تھا مگر موجودہ ترمیمی قانون میں کسی "ٹیکنکل" سبب سے ان کا نام حذف کر دیا گیا ہے۔
میں نے بہار کے بارہ میں مختلف اخباروں میں نہایت سخت رپورٹیں پڑھیں۔ بہار میں کرپشن اپنی انتہا پر ہے: مجرمین سیاسی لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ پوری ریاست فنکشننگ انار کی کا منظر پیش
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues