Patna: The City of Despair
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳
ہوتا ہے جب کہ قوم ظاہر فریب الفاظ پر خو ش ہوتی ہو۔ حقیقی اور واقعی عمل پر خوش ہونے والے کبھی کسی کے ہاتھ میں اس قسم کا کارڈ نہیں بنتے۔
۲۷ جولائی کی شام کو پٹنہ کے اردو لائبریری ہال میں پریس کانفرنس ہوئی۔ اردو، ہندی، انگریزی اخبارات کے نمائندے موجود تھے۔ میں نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ ہمارا مشن فکری بیداری (intellectual awakening) ہے۔ انڈیا ۱۹۴۷ء میں آزاد ہو گیا۔ مگر تقریباً پچاس سال کے بعد بھی وہ اب تک ایک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا۔ یہاں کے مسائل گھٹنے کے بجائے اور زیادہ بڑھ گئے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاسی آزادی تو حاصل کر لی گئی مگر افراد کے اندر تعمیر شعور کا کالم بالکل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ذہنی تعمیر کا کام مسلسل اور متواتر عمل چاہتا ہے۔ مگر اس نوعیت کی کوئی کوشش ہمارے یہاں ابھر نہ سکی۔ اخبارات یہ کام کر سکتے ہیں۔ مگر ہمارے اخبارات کا یہ حال ہے کہ تمام اخبارات کے اوپر سیاست جیسے موضوعات چھائے رہتے ہیں۔ تعمیری موضوعات کے لئے ان کے یہاں کوئی کام نہیں۔
میرے ابتدائی خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ بابری مسجد سے متعلق سوال کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس کا حل میرے نزدیک وہی ہے جس کو میں نے نہ صرف اپنے میگزین میں شائع کیا ہے بلکہ مشتر کہ میٹنگوں میں پیش کیا ہے اور ہندوستان ٹائمس وغیرہ میں بھی اس کو شائع کرایا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مورخین کے ایک بورڈ کو بطور ثالث مقرر کیا جائے اور وہ جو فیصلہ کریں اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیں۔
اگلے دن صبح کو مقامی اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات میں اس پریس کانفرنس کی رپورٹ شائع ہوئی۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۸ جولائی) نے اپنی رپورٹ کی سرخی میں بورڈ والی تجویز کو نمایاں کیا اور ان الفاظ میں اس کی سرخی قائم کی:
(Historians should resolve Ayodhya issue)
ہندوستان ٹائمس (۲۸ جولائی) نے دوسری باتوں کے علاوہ اس تنقید کا بھی ذکر کیا جس کی زد خود اس کے اپنے اوپر بھی پڑتی تھی۔ اس نے لکھا کہ مولانا نے اخباروں سے اپیل کی کہ وہ انسانی دلچسپی کے واقعات کو نمایاں کریں اور ان کو نصیحت کی کہ وہ صرف سیاست میں گم ہو کر نہ رہ جائیں:
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues