Patna: The City of Despair
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴
The Maulana called upon the media to highlight human-interest stories and exorted it not to remain obsessed only with politics ۲۸ جولائی کو ڈاکٹر عبدالحی کمرشل کامپلیکس میں درس قرآن کا پروگرام تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے جدید طرز پر ایک وسیع بلڈنگ بنائی ہے جو کئی منزلہ ہے۔ اس کی تیسری منزل پر ایک خوبصورت مسجد ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ عمل ایک نمونہ ہے جو بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے قابل تقلید ہے۔ فارسی شاعر نے کہا تھا :
خانه شرع خراب است که ارباب صلاح در عمارت گریٔ گنبد اسلاف خود اند مگر ڈاکٹر عبدالحی صاحب نے اپنا گنبد بنانے کے ساتھ خانہ شرع بنانے کی نہایت عمدہ مثال قائم کی ہے۔ اس مسجد میں ہفتہ وار درس کا باقاعدہ نظام قائم ہے۔ میں نے اپنے درس میں قرآن کی اہمیت اور عظمت پر کچھ باتیں عرض کیں ۔ اس کا ٹیپ ان لوگوں کے پاس موجود ہے۔ دوسرے تمام پروگر اموں کا بھی ٹیپ لیا جاتا رہا۔
۲۸ جولائی کی شام کو ایک پر وگرام سنہا انسٹی ٹیوٹ (اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز) میں رکھا گیا تھا۔ یہ اجتماع ڈاکٹر ڈی ڈی گرو کی صدارت میں ہوا۔ اس کا عنوان تھا : اسلام اور بقاء باہم (Islam and co-existence) اجتماع میں تقریباً ۵۰ فیصد ہندو اور ۵۰ فیصد مسلمان تھے۔
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انسانوں کے درمیان پر امن باہمی بقا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ ان کے پاس عمل کے لئے پر امن طریق کار ہو۔ اس کے بعد میں نے بتایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام قوموں میں اپنے عمل کے لئے صرف تشدد دانہ طریقہ (وائلنٹ میتھڈ) کا رواج تھا۔ پیغمبر اسلام نے تاریخ میں پہلی بار غیر متشددانہ طریقہ (نان وائلنٹ میتھڈ) لوگوں کے سامنے پیش کیا اور اس پر عمل کر کے دکھایا کہ پر تشد د طریق کار کے مقابلہ میں بے تشد د طریق کار زیادہ مفید اور زیادہ کار آمد ہے۔ اس سلسلہ میں سیرت کی بہت سی مثالیں پیش کیں۔ آخر میں سوال و جواب ہوا اور صدر کی اختتامی تقریر پر کارروائی ختم ہوئی۔
۲۸ جولائی کی شام کو ڈاکٹر عبدالحی کمرشل کامپلیکس کے ہال میں دوبارہ ایک پر وگرام ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues