Patna: The City of Despair
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵
اس کا عنوان تھا " اسلام اور عصری چیلنج۔ مسٹر ایل دیال آئی اے ایس (سابق چیف سکریٹری ) نے صدارت کی۔ اور جناب محمد شفیع قریشی گورنر بہار نے خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جدید سائنس اور جدید علوم کی بنیاد پر اسلام کے لئے جو فکری چیلنج پیدا ہوا وہ اسلام کے لئے کوئی مخالف انقلاب نہ تھا بلکہ ایک مددگار انقلاب تھا۔ مگر جس طرح برسات کے ساتھ کیچڑ آتی ہے۔ اسی طرح اس مفید انقلاب کے ساتھ کچھ نا خوش گوار باتیں بھی شامل تھیں۔ مگر مسلم دانشورا ور رہنما اس کے نا خوش گوار پہلوؤں میں الجھ کر رہ گئے، وہ اس کے مفید پہلو کو اسلام کے حق میں استعمال نہ کر سکے۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کو واضح کیا۔ ۲۹ جولائی کی صبح کو ایوب گرلز کالج میں خواتین اور طالبات سے خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا عنوان تھا " اسلام اور خواتین " میں نے سادہ انداز میں بتایا کہ اسلام نے عورت کو کتنا زیادہ عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ اور یہ کہ اسلام کے دائرہ میں رہ کر عورت انتہائی بڑے بڑے کام کر سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں نے حضرت ہاجرہ کی مثال تفصیل کے ساتھ پیش کی اور کہا کہ کسی شخص کا یہ قول سب سے زیادہ جس خاتون پر صادق آتا ہے وہ حضرت ہاجرہ ہیں : There is a woman at the beginning of all great things. ایوب گرلز کالج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس کے منتظمین کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی کہ وہ لوگ غریب خاندان کی لڑکیوں کو خصوصی طور پر اپنے یہاں داخلہ دیتے ہیں اور ان کی طرح مدد کرتے ہیں تاکہ وہ تعلیم یافتہ ہو کر اپنے خاندان کے معیار کو بلند کر سکیں۔ چنانچہ اس کالج میں تقریباً ۵۰ فیصد طالبات غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔
پٹنہ میں مجموعی طور پر تقریری پروگرام ہوئے ۔ ہر پروگرام میں امید سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ پٹنہ میں الرسالہ کی دعوت اللہ کے فضل سے کافی پھیل چکی ہے۔ قومی اشو اور " اسلام خطرہ میں " جیسے نعروں پر بھیڑ جمع کرنا بہت آسان ہے۔ مگر اقر المروف کے پروگراموں میں جو لوگ جمع ہوئے وہ الرسالہ کے تعمیری مشن کے نام پر جمع ہوئے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کی آواز اب لوگوں کے درمیان بذات خود ایک مؤثر اور قابل لحاظ آواز بن چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues