Patna: The City of Despair
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶
مسٹر ایم ٹی خان (کنوینر) نے کہا کہ ۱۹۸۶ میں جب ہم لوگوں نے آپ کو پٹنہ بلایا تھا، ہمارا پہلا تجربہ تھا۔ اس سے ہم نے کئی سبق لئے۔ چنانچہ موجودہ سفر میں ہم نے تین نئے پروگرام رکھے ۔ ایک پریس کانفرنس ۔ دوسرے غیر قارئین الرسالہ سے اپروچ کرنا ، مسلم اور غیر مسلم دونوں سے۔ ہم نے انہیں ہندی، انگریزی اور اردو الرسالہ دے کر آبزرور کی حیثیت سے سمپوزیم میں آنے کی دعوت دی ۔ تیسرا پروگرام عورتوں میں خطاب کا انتظام تھا۔ دعوت نامہ کو بھی انھوں نے تعارف کے طور پر استعمال کیا۔ چنانچہ اس موقع پر جو دعوت نامہ چھپا گیا اس کی پشت پر الرسالہ مشن کے سات اہم نکات لکھے ہوئے تھے۔ ایک یہ تھا :
مذکورہ اجتماعات میں کچھ سوالات کیے گئے جن کا جواب دیا گیا۔ میری قیام گاہ پر بھی پٹنہ اور پٹنہ کے باہر کے افراد برابر آتے رہے۔ ان سے سوال و جواب کی صورت میں گفتگو جاری رہی۔ ان سب کو سمپوزیم کے سوال و جواب کے ساتھ یکجا طور پر درج کیا جا رہا ہے۔ تا ہم خواہ وہ سوال و جواب کا معاملہ ہو یا تقریر کا معاملہ، ان کی کامیابی کے لئے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ سامع ایک تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتا ہو۔ اگر سامع کا ذہن تیار نہ ہو تو بولنے والے اور سننے والے کے درمیان ایک فکری بعد (intellectual gap) پیدا ہو جاتا ہے۔ اور جہاں فکری بُعد پایا جائے وہاں کسی کو کچھ سمجھانا انتہائی مشکل ہے (لقمان ۷) مثلاً اگر کوئی شخص فخر کی نفسیات میں جی رہا ہو تو تواضع کی بات اس کے لئے قابل فہم نہیں ہو سکتی۔ کوئی شخص ظلم کی اصطلاحوں میں سوچنے کا عادی بن گیا ہو تو چیلنج کی اصطلاح میں سوچنا اس کے لئے سخت دشوار ہو گا۔ کوئی شخص اپنے بڑوں کو تنقید سے بالا تر سمجھ لے تو وہ اس پر راضی نہیں ہو سکتا کہ اپنے بڑوں کے کسی اقدام کو غلط ٹھہرائے۔ جہاں متکلم اور سامع کے درمیان اس قسم کا فرق ہو وہاں متکلم کی بات سامع کے لئے اجنبی بن جائے گی ۔ اس کے لئے متکلم کی بات کو سمجھنا اسی طرح ناممکن ہو جائے گا جس طرح ایک اردو داں کے لئے روسی یا جاپانی کلام کو سمجھنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues