Al-Risala · October 1991 · page 48

Growing cult of violence in Indian politics.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸

محمد نعیم صاحب (گنگا پور، راجستھان) الرسالہ ہندی اور الرسالہ اردو کی ایجنسی چلاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ جن لوگوں کو الرسالہ دیتے ہیں ان میں سے ایک سیتا رام آریہ بھی ہیں۔ وہ ہندی روزہ نامہ پر جا جن" کے ایڈیٹر ہیں۔ اور الرسالہ ہندی بہت شوق سے پڑھتے ہیں اور اس کے بعض مضامین اپنے اخبار میں نقل کرتے ہیں۔

اسلامی مرکز کے تحت جو مختلف دعوتی اور تعمیری کام ہو رہے ہیں، ان کو جاری رکھنے کے لئے نیز اس میں اضافہ اور ترقی کے لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کا مالی تعاون ہمیں حاصل رہے۔ خاص طور پر الرسالہ کی مد میں آپ کا تعاون بے حد ضروری ہے۔ تاکہ اس کی قیمت میں اضافہ کئے بغیر اس کو جاری رکھا جاسکے۔ محمد مطلوب صاحب (رام پور) الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے الرسالہ کے پیغام کو عملی تجربہ میں نہایت مفید پایا ہے۔ جب جب میں نے الرسالہ کی تعلیم کے مطابق مثبت انداز اختیار کیا تو مجھے زبردست فائدہ ملا۔ اور جب کبھی میں نے منفی طریقہ اختیار کیا تو مجھے نقصان اٹھانا پڑا۔

مولانا سعید صاحب (سورت) الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہر ہفتہ جمعہ کی نماز سے پہلے الرسالہ کے مضامین کو سناتے ہیں اور اس کی تشریح کرتے ہیں۔ اس طرح بہت سی مسجدوں کے امام جمعہ کے دن الرسالہ کی باتوں کو اپنی تقریروں میں بیان کرتے ہیں۔ خلیج ڈائری (الرسالہ مئی ۱۹۹۱) کو مختلف اخبارات نے قسط وار نقل کیا ہے۔ مثلاً سرینگر کا چٹان (مئی ۱۹۹۱) اسی طرح پاکستان کے روز نامہ وفاق نے اپنے شمارہ ۲۴ اپریل اور ۲۵ اپریل ۱۹۹۱ میں مکمل طور پر نقل کیا ہے۔ وغیرہ۔

ایک صاحب لکھتے ہیں: خلیج ڈائری پڑھی۔ اس کا ہر صفحہ عبرت اور نصیحت کا کوہ ہمالہ ہے۔ میں نے بمبئی کے بک اسٹالوں کا سروے کیا۔ تمام بک اسٹالوں پر الرسالہ ختم ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے پرانے رسالے بک اسٹال پر مل جاتے تھے ، اب ہر جگہ الرسالہ ہاتھوں ہاتھ ہدیہ ہو رہا ہے (محمد افضل لادی والا ، بمبئی)

ایک صاحب لکھتے ہیں: "خلیج ڈائری" سات عدد موصول ہوئی ۔ پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ میں اپنے جمعہ کے خطبات میں الرسالہ کے اقتباسات برابر سناتا ہوں۔ سامعین الرسالہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues

Printed page