Al-Risala · October 1991 · page 51

Growing cult of violence in Indian politics.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۵۱

کی باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر لوگوں کو بطور مطالعہ بھی دے رہا ہوں (قاضی محمد اویسی، شاہ جہاں پور)

ایک صاحب لکھتے ہیں: میں تقریباً چار سال سے الالرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ آپ کے تمام مضامین ٹو دی پوائنٹ اور دل کو چھونے والے ہوتے ہیں۔ جب سے میں نے رسالہ پڑھنا شروع کیا ہے تب سے میری زندگی میں ایک انقلاب سا آ گیا ہے۔ میرا ذہن صاف اور میرا نظریہ بہتر ہونے لگا ہے۔ آپ کی کتاب "راہ عمل" دیکھی۔ پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ مسلمانوں کو دوسروں سے شکایت کرنے کے بجائے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی طرف دھیان دینا چاہئے۔ مجھے ہر مہینہ الرسالہ (اردو، انگریزی) کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ (نثار احمد خاں کشمیری، ممبئی)

مسٹر ششی منندن (آگرہ) لکھتے ہیں: دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کی غرض سے بہت سے جرائد ورسائل ملک میں نکل رہے ہیں۔ لیکن الرسالہ کا اپنا منفرد مقام ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر چکے ہیں، لہٰذا آپ کا مشاہدہ ومطالعہ بہت وسیع ہے۔ جون کے شمارہ میں "قومی مسئلہ" کے عنوان سے آپ نے ملک کے مختلف حصوں میں چل رہی علیحدگی پسند پر تشدد تحریکوں پر قلم اٹھایا۔ آپ نے بیباک انداز میں حقیقت کو قارئین کے سامنے رکھ دیا۔ الرسالہ کے ذریعہ مذہب اسلام کے متعلق جس قدر معلوم ہوا اتنا شاید دوسرے رسائل وجرائد سے ممکن نہیں ہے۔ الرسالہ کی تحریروں سے اسلام کے متعلق بہت کچھ معلوم ہوا ہے۔ اسے پڑھ کر جیسے غیرمسلم حضرات بہت دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ آپ کی تحریریں جذبات کے بجائے حقیقت کو قارئین کے سامنے لاتی ہیں۔ ان سے اسلام کو صحیح تناظر میں سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ الرسالہ اسلام کے سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوا ہے۔

الرسالہ کے مضامین کو لوگ مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے لوگوں نے انگریزی ارسالہ میں پڑھا:

A thousand mile journey starts with the first step. اس کو انھوں نے ہاتھ سے یا کمپیوٹر سے لکھ کر اپنے دروازوں پر لگا دیا اور دوسروں تک پھیلایا۔ ارسال ۴۹

‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues

Printed page