Al-Risala · November 1991 · page 25

لحم خنزير

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵

لحم خنزير

خنزیر کا گوشت کھانا اسلام میں حرام ہے۔ حوالہ کے لئے قرآن کی حسب ذیل آیتیں ملاحظہ ہوں: البقره 173، ، المائده ۳ ، الانعام ۱۴۵ ، النحل ۱۱۵۔ موجودہ زمانہ کے عیسائی حضرات اگرچہ خنزیر کا گوشت عملاً استعمال کر رہے ہیں۔ مگر مذہبی حکم کے اعتبار سے ان کے یہاں بھی خنزیر کا گوشت ممنوعہ غذاؤں میں سے ہے۔ بائبل کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں:

اور سور کو کیوں کہ اس کے پاؤں الگ اور چر سے ہوئے ہیں، پر وہ جگالی نہیں کرتا۔ وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔ تم ان کا گوشت نہ کھانا۔ اور ان کی لاشوں کو نہ چھونا۔ وہ تمہارے لئے ناپاک ہیں (احبار ۱۱: ۷)

اور سور تمہارے لئے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چر سے ہوئے ہیں۔ پر وہ جگالی نہیں کرتا۔ تم نہ توان کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا (استثناء ۱۴: ۸) حلال جانور گویا قدرت کے زندہ کارخانے ہیں۔ وہ انسان کے لئے پروٹینی خوراک فراہم کرنے کا قیمتی ذریعہ ہیں۔ یہ حیوانات غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرتے ہیں۔ بکری گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہے۔ چڑیاں کیڑے مکوڑے کھاتی ہیں اور ان کو گوشت میں تبدیل کرتی ہیں۔ مچھلیاں پانی کے معمولی جانور کھاتی ہیں اور ان کو قیمتی سفید گوشت میں تبدیل کرتی ہیں۔

مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ خنزیر نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ کیڑے مکوڑے ۔ اس کی خوراک گندگی ہے۔ اس کا گوشت گندگی سے بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خنزیر کے کھانے کا اثر آدمی کے مزاج پر پڑتا ہے اور اس کا اخلاق بگڑ جاتا ہے۔

خنزیر بیماری کا سبب بھی ہے۔ کیوں کہ اپنی گندی خوراک کی وجہ سے وہ اکثر بہت سی متعدی اور حر ایسی بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے :

Pigs are subject to many infectious and parasitic diseases. (10/1282)

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page