لحم خنزير
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
برداشت ہوتے جارہے ہیں کیونکہ خنزیر مضمون نگار کے الفاظ میں انسان کا مد مقابل (Competitor) ہے۔ یعنی وہ وہی خوراک کھاتا ہے جو انسان کھاتا ہے۔ خنزیر نہ گھاس کھاتا ہے اور نہ گوشت۔ اس کو غلہ کی بنی ہوئی چیزیں (ڈبل روٹی وغیرہ) کھلانی پڑتی ہیں۔ مزید یہ کہ خنزیر بہت پیٹو جانور ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر زیادہ غذا کھاتا ہے ۔ چند خنزیر اگر کسی بیکری میں داخل ہوجائیں تو وہاں کی تمام ڈبل روٹی اور پنیر کھا کر ختم کردیں گے۔ موجودہ زمانہ میں خنزیر کی خوراک میں کفایت کی خاص کوشش کی جارہی ہے۔ خنزیر کے فارموں میں کمپیوٹروں کے ذریعہ ان کی خوراک پر کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ نہ کھا سکیں۔ مگر ان ساری کوششوں کے بعد بھی خنزیر کا یہ حال ہے کہ اس کے لاشہ میں ایک پونڈ کا اضافہ کرنے کے لئے اس کو ۵ پونڈ خوراک کھلانی پڑتی ہے ، Despite all modern aids to economic production, it still takes about 5 pounds of pig food to produce one pound of weight increase in the pig's carcase. مضمون نگار کے الفاظ میں یہ خنزیر کی بنیادی کمزوری (Fundamental weakness) ہے۔ بکری اور گائے گھاس کو گوشت میں تبدیل کرتے ہیں۔ گویا جس چیز کو انسانی معدہ براہ راست ہضم نہیں کرسکتا اس کو خود کھا کر دودھ اور گوشت کی صورت دیتے ہیں اور ہمارے لئے کھانے کے قابل بناتے ہیں۔ مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ وہ خود انسان کی غذا (ڈبل روٹی وغیرہ) کھاتا ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ ۵ پونڈ انسانی غذا کھا کر صرف ایک پونڈ گوشت انسان کو واپس کرتا ہے۔ خنزیر صرف یہ کرتا ہے کہ سستی خوراک کو مہنگی خوراک بنا دے :
The pig can only translate a cheap food into an expansive one مضمون نگار نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا انفجار ہے۔ حتیٰ کہ وہ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
The population explosion is a far greater threat than that of nuclear war. زمین پر انسانی آبادی ہندسی نسبت (Geometrical progression) سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے اندازہ کے مطابق ۲۰۱۵ میں دنیا کی موجودہ آبادی دگنا ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں خنزیر کا مستقبل، مضمون نگار کے نزدیک، اکیسویں صدی میں یہ نظر آتا ہے کہ ان کی بہت تھوڑی تعداد کو چھاچھ اور ٹکڑوں کی خوراک مل سکے گی۔ اور بقیہ تمام خنزیر غذائی اشیاء کی قلت کے سبب دوبارہ گندگی کھانے والے جانور (scavenger)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues