اخلاق پر اثر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸
بن کر رہ جائیں گے۔
معلوم ہو ا کہ خنزیریا تو گندگی کھاتا ہے یا انسانی خوراک۔ خنزیر کو خدا نے اس لیے بنایا تھا کہ وہ گندگی کو اپنی خوراک بناکر صفائی کرم چاری،، کا کام انجام دے۔ مگر انسان نے اس کو اپنی خوراک بنا لیا اور اس کی خاطر جدید طرز کے بڑے بڑے فارم بنائے۔ قدرت کے انتظام میں یہ مداخلت صرف اس قیمت پر ہوئی کہ انسان اپنی خوراک کا زیادہ حصہ اس کو کھلا کر اس سے اپنے لیے کم خوراک حاصل کرے۔ خدا نے اپنی دنیا میں جو نظام قائم کیا ہے، وہ حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں کی مجموعی رعایت پائی جاتی ہے۔ یہ نظام اتنا کامل ہے کہ ایک جز میں کوئی فرق کیا جائے تو دوسرے تمام اجزاء میں اختلال پیدا ہو جاتا ہے۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد درست طریقہ یہ ہے کہ وہ قدرت کے نظام میں دخل اندازی سے بچے، وہ اس کی مکمل پیروی کرے۔ اگر آدمی نے قدرت کے اس نظام کو بدلنے کی کوشش کی تو وہ صرف اس قیمت پر ہو گا کہ اس کے بعد ماحول میں ایسی خرابی پیدا ہو جائے جس پر قابو پانا اس کے لئے ناممکن ہو۔
اخلاق پر اثر
جانوروں کا گوشت سادہ طور پر محض ایک خوراک نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقیات سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ بکری کا گوشت کھانے سے بکری والی صفات بنتی ہیں اور بھیڑیا کا گوشت کھانے سے بھیڑیا والی صفات۔ اسی طرح خنزیر کا گوشت بھی آدمی کے اندر مخصوص اخلاقی صفت پیدا کرتا ہے۔ یہ صفت انسانی زندگی کے لیے نا پسندیدہ ہے۔ اس لئے اس کو شریعت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک تقابلی مطالعہ کیجئے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خنزیر کا گوشت زیادہ تر مغربی قوموں میں کھایا جاتا ہے۔ مشرقی قوموں میں بحیثیت خوراک اس کا رواج ناقابل ذکر حد تک کم ہے۔ مغربی قوموں میں خنزیر کی حیثیت ایک عام غذا کی ہے۔ اس کے برعکس مشرقی قوموں کی عام غذا غلہ اور سبزی اور دودھ جیسی چیزیں ہیں۔ مشرق کی جن قوموں (مثلاً مسلمان) میں گوشت کھایا جاتا ہے۔ وہ صرف حلال گوشت ہے جس میں خنزیر کا گوشت شامل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues