Al-Risala · November 1991 · page 29

اخلاق پر اثر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹

اب دونوں قوموں کا اخلاقی حیثیت سے تقابل کیجئے۔ مشرقی قوموں میں مذہب اور روحانی علوم کا ارتقاء ہوا۔ دوسری طرف مغربی قوموں میں ایسے علوم کا ارتقاء نہ ہوسکا۔ ان کے درمیان زیادہ تر ٹیکنکل علوم کو ترقی حاصل ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلال غذا آدمی کے اندر ذوق لطیف پیدا کرتی ہے اور حرام غذا ذوق کثیف پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح قدیم زمانہ میں زیادہ تر مشرقی قوموں کو سیاسی اور فوجی غلبہ حاصل تھا۔ موجودہ زمانہ میں غلبہ کی حیثیت زیادہ تر مغربی قوموں کو حاصل ہو گئی ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو مشرقی قوموں کے غلبہ کا زمانہ نسبتاً زیادہ پر امن نظر آئے گا۔ مشرقی قوموں نے کبھی اس بے رحمانہ درندگی کا ثبوت نہیں دیا جس کا نمونہ موجودہ مغربی قوموں میں دکھائی دیتا ہے۔

مغربی قوموں نے تاریخ کی سب سے زیادہ بھیانک لڑائیاں چھیڑی ہیں۔ انھوں نے ہلاک ہتھیاروں کو پہلی بار انڈسٹری کی حیثیت دے دی۔ آج یہ لوگ عالمی سطح پر قوموں کو صرف اس لئے لڑاتے ہیں تاکہ یہ قومیں بھاری قیمت پر ان سے ہتھیار خریدیں اور ان کی وار انڈ سٹری کامیابی کے ساتھ چلتی رہے۔ وغیرہ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حلال غذا آدمی کے اندر پر امن نفسیات پیدا کرتی ہے، اور حرام غذا آدمی کے اندر تشدد کی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

زیر طبع کتابیں الربّانية حیاتِ بشری کا ربانی طریقہ صفحات ۲۲۳ کاروانِ ملّت صفحات ۲۰۰ ڈائری (جلداول : ۸۳-۱۹۸۳) صفحات ۳۹۶ ڈائری (جلد دوم : ۸۶-۱۹۸۵) صفحات ۴۹۱

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page