الحديبیہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰
الحديبیہ
اسلام کی تاریخ کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو الاستراتيجية الحديبيه (Al-Hudaibiya strategy) کہا جا سکتا ہے۔ جب الحديبیہ کا معاہدہ ہوا تو قرآن میں اس کو فتح مبین (الفتح ۱) کہا گیا۔ الحديبیہ اسٹریٹجی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تھی کہ مقابلہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر امن کے میدان میں لایا جائے ۔ تشدد کی طاقت سے فیصلہ لینے کے بجائے امن کی طاقت سے فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ تدبیر انتہائی کامیاب رہی ۔ الحديبیہ کے بعد دو سال کے اندر مکہ کسی جنگ کے بغیر فتح ہو گیا۔ یہ ۶۲۸ء کا واقعہ ہے۔ اسلام نے الحديبیہ کی صورت میں پہلی بار انسانی تاریخ میں اس اصول کا کامیاب مظاہرہ کیا کہ تشدد کی تدبیر کے مقابلہ میں امن کی تدبیر زیادہ کارگر اور زیادہ موثر ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں سب سے بڑی طاقت امن کی طاقت ہے۔ جنگ کی طاقت بظا ہر کتنا ہی زیادہ اہم دکھائی دیتی ہو، اس کی ایک حد ہے، اپنی حد پر پہنچ کر وہ غیر موثر ہو جاتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اس حقیقت کو نہ اسلام کی تاریخ سے لیا اور نہ موجودہ حالات سے وہ اس کو اخذ کر سکے۔ مسلمانوں کے نادان رہنما سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے "تلوار" کی عظمت بیان کرنے میں مصروف ہیں۔ اس الٹی رہنمائی نے ساری دنیا میں مسلمانوں کی سوچ کو بگاڑ دیا ہے۔ وہ ہر جگہ تلوار کی طاقت سے فیصلہ لینا چاہتے ہیں، خواہ اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر خود ان کی اپنی بربادی کی صورت میں کیوں نہ نکلتا ہو۔
اس غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان آج کی دنیا میں ایک تضاد بن کر رہ گئے ہیں۔ اپنی عدم تیاری کی بنا پر وہ پر امن مقابلہ میں دوسری قوموں کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ چنانچہ وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر بے فائدہ قسم کی منفی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ ان کا یہ مزاج کہیں لاحاصل مطالبہ اور احتجاج کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے اور کہیں لا حاصل بم اور گولی کی صورت میں۔ مسلمان اگر آج کی دنیا میں اپنے لئے با عزت جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دوبارہ الحديبیہ اسپرٹ کو زندہ کرنا ہوگا۔ انھیں اپنے آپ کو پر امن طاقتوں سے مسلح کرنا ہوگا۔ موجودہ عسکری سرگرمیاں انھیں بربادی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں۔ اس معاملہ میں ایک محدث کا مشہور قول پوری طرح
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues