الرساله سمپوزیم
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶
بدرالدین احمد، اکاؤنٹ افسر، کنا را بینک، پٹنہ محمد شفیق ، شیخ پورہ ، مونگیر ڈاکٹر عبد الصمد ، پٹنہ پیغام سنانے کے بعد مقالات پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مقالات میں الرسالہ کے بارے میں اپنے اپنے تاثرات کو بیان کیا گیا تھا۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ موجودہ ملکی اور بین اقوامی حالات میں اس کے پیغام کی کیا اہمیت ہے۔ یہاں ان مقالات کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مسٹر ایم کے سنہا، سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس، بہار نے اپنا مقالہ انگریزی میں پڑھا۔ اس میں انھوں نے دوسری باتوں کے علاوہ لکھا کہ آج ہمارے پاس انڈیا ہے ، انڈین ہیں ، مگر انڈین نس (Indianness) نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ ملک میں انڈین نس پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مقالہ کا ایک جملہ یہ ہے :
Al-Risala gives a correct lead to this vexed (communal) problem which is possibly due to politics becoming more and more complicated in re- cent times. دوسرا مقالہ جناب مصطفی کمال صدیقی اور نٹیل بینک آف کامرس) کا تھا۔ یہ مقالہ اردو میں تھا ۔ انھوں نے اپنے تفصیلی تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ سے الرسالہ کی ڈیفینیشن (تعریف) پوچھی جائے تو میں کہوں گا کہ الرسالہ ایک ایسا مشن ہے جو جاگے ہوئے لوگوں کو جگانے کا کام کر رہا ہے۔ سوئے ہوئے لوگوں کو جگانا آسان ہوتا ہے۔ مگر جاگے ہوئے لوگوں کو جگانا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ اس کے بعد مس انشو مترا چودھری (ایم اے انگلش ، پٹنہ یونیورسٹی) نے اپنا انگریزی پیپر پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ انگریزی کی مستقل قاری ہوں۔ مجھے اس کے پیغام سے اتفاق ہے۔ الرسالہ کرکٹ تھنکنگ پیدا کرتا ہے۔ میری تمنا ہے کہ میں سماج کی اصلاح کے لئے الرسالہ کے انداز میں کام کروں۔ ان کے مقالہ کا ایک جز یہ تھا :
The publication of Al-Risala in Hindi, Urdu and English provides people across the country with ample scope to introduce themselves with reason and rationalism. اس کے بعد حافظ محمد حفظ الرحمان صاحب (رضا ہائی اسکول ، پٹنہ) نے اپنا اردو مقالہ پیش
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues