الرساله سمپوزیم
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴
کیا۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ ہم کو اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ اصول زندگی کی کامیابی کے لئے بے حد اہم ہے۔ اعراض کا مطلب بزدلی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اعراض کی صفت آجائے وہ سب سے زیادہ بہادر آدمی ہے۔
اس کے بعد پروفیسر ایس شہاب الدین دسنوی اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے اپنا مقالہ پڑھا۔ ان کا مقالہ انگریزی میں تھا۔ انھوں نے اپنے مقالہ میں الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی تعمیر نو کے لئے اپنا ذہن بدلنا چاہئے : Muslims should consider changing their own thinking which may lead to building up their own strength and help them in the reconstruction of the millat. ذکیہ مشہدی صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ مجھے الرسالہ کے پیغام سے پورا اتفاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے مشن کو آگے بڑھانے کے سلسلہ میں اپنی بساط کے مطابق میں پورا تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ قوم وملک کی بہترین خدمت ہے۔
واصف امام صاحب نے اپنے انگریزی مقالہ میں الرسالہ کے مشن سے مکمل اتفاق کیا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کی تاثیر اتنی غیر معمولی ہے کہ کوئی بھی شخص پڑھنے کے بعد اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا: One can like Al-Risala, one can dislike Al-Risala, but one cannot ignore Al-Risala. شفیع مشہدی صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ اپنی ذات میں ایک آفاقی پیغام بن چکا ہے۔ وہ محض کسی قوم کے لئے نہیں، محض کسی ملک کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لئے ہے۔
مسٹراے خان (میجر، انڈین بینک) نے اپنے انگریزی مقالہ میں الرسالہ کے مشن کی تائید کی اور اس کو مسلمانوں کے لئے صحیح راہ عمل بتایا۔ انھوں نے کہا : Al-Risala's stand on peaceful co-existence .is essentially a message to Muslims محمد رضی احمد صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ ایک عظیم تعمیری منصوبہ ہے۔ یہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues