Al-Risala · November 1991 · page 38

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸

بزدلی کا سبق نہیں بلکہ بہادری کی تعلیم ہے۔ یہ بے عملی کا نہیں بلکہ حقیقی عمل کا پیغام ہے۔ ڈاکٹر متری نوابس صاحب نے انگریزی میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے الرسالہ کے تعمیری پیغام کی پوری حمایت کی۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا :

Every Hindu must read Al-Risala for purity of heart and cleansing of head. ڈاکٹر ایل اے خان دیگھانے انگریزی میں اپنا مقالہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ الرسالة صرف ایک میگزین نہیں ہے بلکہ وہ ایک تحریک ہے۔ وہ روح اور دل اور دماغ کے لئے ایک انقلاب ہے :

Al-Risala is not a magazine but a movement, a change and a revolution of soul, mind and heart. ایس خالد رشید صاحب نے ہندی میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے الرسالہ کے پیغام کی حمایت کی اور کہا کہ الرسالہ مانو مولیہ (انسانی قدروں) کے پر چار میں دلوں کو دل سے جوڑنے میں، اور نفرت کو پیار سے بدلنے میں سہل ہوا ہے ۔ اور یہ آج کے حالات میں بہت بڑی بات ہے۔ ڈاکٹر ایس ایف رب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ کے مطابق کسی بھی قوم کی ترقی یا تنزل کاراز اس حقیقت میں چھپا ہوا ہے کہ اس کے افراد کے سوچنے کا انداز کیا ہے۔ آدمی جیسا سوچتا ہے ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ اس لئے الرسالہ کی کوشش ہے کہ وہ صحیح سوچ والے انسان بنائے ۔

ڈاکٹر ڈی ڈی گرونے انگریزی میں اپنا مقالہ پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کی نہیں اگر چہ مذہب ہے مگر وہ ریزن اور عقیدہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے نہ کہ جذبات اور عقیدہ کی طرف۔ انہوں نے کہا: Al-Risala refers to a path of reason and faith rather than emotion and faith. یمین ثمرفضل صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ عصری تقاضوں کے پیش نظر پوری دردمندی کے ساتھ قوم کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔ وہ مستقبل کی تعمیر کا پیغام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page