Al-Risala · November 1991 · page 39

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹

نعمان غنی دیوروی نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ کی تحریر بڑی جاندار ہوتی ہے۔ مختصر جملوں میں بڑی اچھی اچھی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ الرسالہ اس قابل ہے کہ اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنایا جائے۔

پرنسپل بلبیر سنگھ نے اپنے انگریزی مقالہ میں کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الرسالہ کے ذریعہ جس پیغام کی اشاعت کی جارہی ہے وہ براہ راست قارئین کے دل تک پہنچ رہا ہے: I have come to the conclusion that the messages conveyed by Al-Risala go straight to the heart of the reader. ڈاکٹر اختر حسین آفتاب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ میری نگاہ میں الرسالہ کا شمار اقوال زریں میں ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے قیمتی اصولوں کو مختصر الفاظ میں پیش کر رہا ہے۔ ریحانہ خانم صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ تعمیر حیات کی ساری ضروری باتیں (inputs) الرسالہ میں موجود ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ کامیابی کا راز ہے کہ آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر آئے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کرے۔

کوثر مظہری صاحب (پٹنہ یونیورسٹی) نے اپنے اردو مقالہ میں دوسری باتوں کے علاوہ کہا کہ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو عصری اسلوب اور جدید علم کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر رام شو بھت پر شاد سنگھ نے اپنے ہندی مقالہ میں کہا کہ الرسالہ ایک دو چار انچک اور پر بھاو کاری پتریکا ہے۔ ہر آدمی کو اسے پڑھنا چاہئے۔

ڈاکٹر عبد الصمد صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ تحریر کا جادو ہے یہ ہر دور کی ایک زبان ہوتی ہے اور الرسالہ آج کے دور میں آج کی زبان میں بات کرتا ہے۔ اس کا پیغام وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔

یہ پیش کئے گئے مقالات کا خلاصہ ہے۔ کچھ اور بھی تنقیدی باتیں بھی شامل ہیں۔ ان تنقیدوں کی وضاحت مقالات پڑھنے والے بعد میں قارئین کی طرف سے کی جاتی ہیں۔ قارئین کے آئندہ سوال و جواب کے تحت بتایا جارہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page