الرساله سمپوزیم
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱
کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اگر ہندو کُر تلہ ہے تو پاکستان میں مسلمان کرے گا۔ پہلی غلطی اس دنیا میں بہر حال ہونے والی ہے۔ اس کے بعد اگر دوسری غلطی نہ کی جائے تو بات اپنے ابتدائی مرحلہ میں ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر بے صبر ہو کر دوسری غلطی کردی جائے تو بات بڑھتی ہے یہاں تک کہ فساد اور ہلاکت کی نوبت آجاتی ہے۔ اس لئے عقلمند وہ ہے جو پہلی غلطی کو برداشت کر لے۔ اور دوسری غلطی کرنے کی غلطی نہ کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا واحد راز ہے، ہندوستان میں بھی اور ہندوستان کے باہر بھی۔
بیک صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ کتابوں کی قیمت زیادہ نہیں بلکہ زیادہ لگتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں خرید کر پڑھنے کا مزاج نہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ بس مفت لے کر پڑھ لیں۔ اور جب مفت پڑھنے کا مزاج ہو تو جو بھی قیمت رکھی جائے وہی لوگوں کو زیادہ معلوم ہوگی۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ ایک سیٹ پر بیٹھنے کے لئے کہتا ہے۔ کیا اس سے پوری قوم شکست خوردگی اور پس ماندگی کا شکار نہیں ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ ”بیک سیٹ“ کا لفظ علامتی طور پر صرف وقتی تدبیر کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب ہے ابتدائی مرحلہ میں کم پر راضی ہونا تاکہ زیادہ کے لئے جد و جہد کی جاسکے۔ یہ ہر با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ ہر آدمی جو کسی بڑے مقصد تک پہنچنا چاہتا ہو وہ ابتداء پہلے زینہ پر قدم جمانے کے لئے اپنے آپ کو راضی کرتا ہے۔ جو آدمی ابتدائی مرحلہ میں پہلے زینہ پر اپنا قدم رکھنے پر راضی نہ ہو وہ کبھی اگلے زینہ پر پہنچنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی رضا مندی اس دنیا میں وقفہ تعمیر حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک باپ اگر صرف میٹرک پاس ہو تو اس کو کلرک بننے پر راضی ہونا پڑے گا تاکہ وہ اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے قابل ہو سکے۔ ایسا باپ اگر اپنے آپ کو ”بیک سیٹ“ پر بیٹھنے کے لئے راضی نہ کرے تو وہ اپنے بیٹے کو اگلی سیٹ تک پہنچانے کا خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ یہ دراصل تدبیر کار کا مسئلہ ہے نہ کہ ہمیشہ کے لئے پس ماندہ بن جانے کا مسئلہ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوؤں کے جلوس کو اپنے محلہ سے یا مسجد کے سامنے سے گزرنے دیں۔ یہ تو بڑی بے غیرتی کی بات ہے۔ وہ لوگ اشتعال انگیز
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues