Al-Risala · November 1991 · page 23

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳

یہ ہے کہ جو مشن تقریر کی سطح پر پھیلایا جائے اس کو لوگ مشن سمجھتے ہیں، اور جو مشن رسالہ اور کتاب کے ذریعہ پھیلایا جائے اس کو وہ صحافت سمجھتے ہیں۔

اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ ابھی تک الرسالہ کو صرف ایک میگزین سمجھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ابھی تک اس کو ایک مشن نہیں سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ایسے اشکالات پیش آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مشن اپنے ابتدائی دور میں دن مین شوہی ہوتا ہے۔ اگر آپ الرسالہ کو کئی مین شو کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس مشن کے اگلے دور کا انتظار کرنا چاہئے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اب تک اپنا کوئی عملی پروگرام نہیں بتایا۔ پھر آخر آپ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ کا مقصد ، ایک لفظ میں ــــــــ اسلامی بیداری (Islamic awakening) ہے ۔ یعنی موجودہ مسلمانوں میں دوبارہ اسلام کی اس اسپرٹ کو زندہ کرنا جو دورِ اول کے مسلمانوں میں تھی۔ یہی اسلامی اسپرٹ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔ اسلامی اسپرٹ بیدار ہو تو لوگوں میں ایمان کی حرارت پیدا ہو جائے ۔ عبادتوں میں جان آجائے۔ اسلامی کردار ابھر آئے ۔ لوگ معاملات و مسائل کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھنے لگیں اور اسلامی ہدایات کے مطابق ان کے حل کی تدبیر کریں۔ اسلامی دعوت کا جذبہ ان کے اندر ابھر آئے ۔ ہماری تشخیص کے مطابق، موجودہ مسلمانوں میں جو اصل چیز کھوئی گئی ہے وہ کوئی ظاہری ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ اصل چیز جوان سے کھوئی گئی ہے وہ اندرونی اسپرٹ ہے۔ دوسری تمام چیزیں جو ان میں مفقود نظر آتی ہیں وہ اسی اصل کے نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔

تعمیر ملت کے سلسلہ میں اس بنیادی کام کی اہمیت ہر ایک کو معلوم ہے۔ مگر کوئی اپنے آپ کو اس کام میں نہیں لگاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے کاموں میں فوراً لیڈری ملتی ہے، جب کہ اس کام میں لیڈری اور مقبولیت کی کشش موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی قربانی گمنامی کی قربانی ہے۔ یعنی شہرت والے کام کو چھوڑ کر اس کام کو اختیار کرنا جس میں آدمی کو عوامی شہرت نہیں ملتی۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ زیادہ تر رسالہ اور کتاب کے ذریعہ اپنا مشن چلا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page