Al-Risala · November 1991 · page 44

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴

آپ نے ابھی تک اپنی کوئی مستقل تنظیم قائم نہیں کی۔ ایسی حالت میں آپ کا مشن آئندہ صرف کتب خانوں میں رہ جائے گا، ان نے باہر اس مشن کا کوئی وجود نہ ہوگا۔

میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۰۳-۱۷۶۲) نے صرف کتابیں لکھیں۔ اپنے افکار کی بنیاد پر وہ کوئی عملی تنظیم قائم نہ کر سکے۔ پھر کیا شاہ ولی اللہ کا مشن ختم ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ وہ شاہ صاحب کے بعد بھی پوری طاقت کے ساتھ زندہ رہا اور آج تک زندہ ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کیسے یہ فرض کر رہے ہیں کہ الرسالہ مشن آئندہ ختم ہو جائے گا، صرف اس لئے کہ ہم نے ابھی تک اس کے لئے معروف قسم کی کوئی عملی تنظیم قائم نہیں کی۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اب میں بوڑھا ہوگیا۔ ایسی حالت میں آپ نے اپنے بعد اس مشن کو زندہ رکھنے کا کیا انتظام کیا ہے۔

میں نے کہا کہ کسی مشن کی بقا کا انحصار اس کی اپنی فکری طاقت پر ہوتا ہے نہ کہ کسی خارجی سہارے پر۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کے دھواں دھار خلافت تحریک اٹھائی۔ مگر وہ ۱۹۲۴ میں ختم ہوگئی جب کہ محمد علی اور ابوالکلام ابھی زندہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خلافت تحریک اگرچہ ہندوستان میں چل رہی تھی مگر اس کا اصل سراترک لیڈروں کے ہاتھ میں تھا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشن اگر اندرونی طاقت سے محروم ہو تو وہ بانی کی موجودگی میں ختم ہو سکتا ہے۔ اور اگر مشن خود جاندار ہے تو وہ بانی کے بعد بھی زندہ اور قائم رہے گا۔ میں نے کہا کہ غور کیجئے کہ الرسالہ مشن کیا ہے۔ یہ مشن مسلمانوں کے لئے اسلام کو ان کی تازہ دریافت (rediscovery) بنانا چاہتا ہے۔ اس کی اساس داخل پر ہے نہ کہ خارج پر۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں کہ کچھ صاحب صلاحیت افراد کے لئے اسلام کو ان کی از سر نو دریافت بنا دیں تو خود اسلام ان کے لئے ہر دوسری چیز کا بدل بن جائے گا۔ لوگ جس طرح کسی خارجی سہارے کے زور پر حرکت کرتے ہیں، یہ افراد خود اسلام کے ابدی سرچشمہ سے اپنے آپ کو جوڑ کر مزید شدت کے ساتھ متحرک ہو جائیں گے۔ اور اس طرح یہ مشن خود اپنی اندرونی طاقت کے زور پر زندہ رہے گا۔ انشا اللہ۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ باتیں تو بہت اچھی اچھی کرتے ہیں، مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page