الرساله سمپوزیم
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶
انقلاب بن جائے ۔ اگر وہ عام جماعتوں کی طرح محض ایک تشکیلی ڈھانچہ کے روپ میں زندہ رہا تو کم از کم میں اس کو الرسالة مشن کی کامیابی نہیں سمجھوں گا۔
ایک صاحب نے فرمایا کہ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ مسلم دشمن طاقتوں کی طرف سے آپ کو مدد ملتی ہے اور آپ ان کے تعاون سے اپنا مشن چلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ جو شخص بھی غور کرے وہ پائے گا کہ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے۔ الرسالہ میں سراسر قرآن و حدیث کی دعوت دی جاتی ہے۔ پھر وہ کون مسلم دشمن اور اعداءِ اسلام ہیں جو ہم کو اس لئے مدد دے رہے ہیں کہ ہم قرآن وحدیث والے دین کو دنیا میں پھیلائیں۔
پھر میں نے کہا کہ الرسالة مشن خدا کے فضل سے آتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ وہ خود اپنی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کو کسی "دشمن دین" کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالة مشن کے حامی اور مؤید ساری دنیا میں بڑی تعداد میں پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ آپ نے خود پٹنہ میں آج (۲۸ جولائی ۱۹۹۱) کو دیکھا ہے۔ یہاں سنہا انسٹی ٹیُوٹ میں الرسالہ ریڈرس فورم نے شام کا ایک پرو گرام رکھا تھا جس میں میری تقریر اسلام اور بقائے باہم کے بارہ میں تھی۔ اتفاقاً ایسا ہوا کہ جس وقت انسٹی ٹیُوٹ کے ایک ہال میں میری تقریر تھی، ٹھیک اسی وقت انسٹی ٹیُوٹ کے دوسرے ہال میں بہار کے چیف منسٹر مسٹر لالُو پر شاد کی تقریر تھی۔
دونوں ہال گراؤنڈ فلور پر ہیں اور پاس پاس ہیں۔ حسب معمول دوسرے ہال میں زبردست دھوم تھی ۔ پولیس اور سرکاری لوگ بڑی تعداد میں نظر آ رہے تھے۔ اس کے با وجود ہمارے ہال کی تمام سیٹیں بھر گئیں۔ بہت سے لوگوں کو کھڑا ہونا پڑا۔ لمبی تقریر کے دوران مکمل خاموشی تھی۔ آخر وقت تک لوگ نہایت سکون کے ساتھ تقریر کو سنتے رہے۔ سامعین میں تقریباً نصف ہند و اور نصف مسلمان تھے ۔ خود سنہا انسٹی ٹیُوٹ کے کئی لوگ، مثلاً پروفیسر ڈی ڈی گرو (Dr. D. D. Guru) بھی شروع سے آخر تک اس میں شریک رہے۔
میں نے کہا کہ جس مشن میں یہ طاقت ہو کہ وہ لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ چیف منسٹر کے اپنے صدر مقام پر چیف منسٹر کا پرو گرام چھوڑ کر اس کا خطاب سننے کے لئے آئیں، اس کو چلانے کے لئے کسی "دشمن دین" کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنے زور پر چل سکتا ہے اور قائم ہو سکتا ہے۔ ان شاء اللہ عز وجل
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues