Al-Risala · November 1991 · page 77

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۷۷

انگریزی کے منتخب مضامین کا ترجمہ بنگلہ زبان میں کر کے انہیں بنگالی اخباروں میں شائع کرارہی ہیں۔

۵ ایک صاحب خیر مسلمان نے اپنی طرف سے زر تعاون ادا کر کے نصف درجن مدرسوں اور لائبریریوں کے نام الرسالہ جاری کروایا ہے۔ اسی طرح مختلف حضرات جاری کراتے رہتے ہیں۔ تاہم ابھی اس کام میں بہت زیادہ توسیع اور اضافہ کی ضرورت ہے۔ جو حضرات اس کار خیر میں حصہ لے سکیں وہ دفتر سے خط و کتابت فرمائیں۔

۶ جموں کے علاقہ (پونچھ راجوری) میں الرسالہ مشن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اسکول اور مدرسہ قائم کرکے تعلیمی کام کر رہے ہیں۔ اس سے بیک وقت دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اس طرح وہ قوم کے افراد کو تعلیم یافتہ بنارہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اسکول اور مدرسہ کے ذریعہ انہیں ایک بیس (base) مل جاتی ہے جو الرسالہ مشن کے لئے مختلف پہلوؤں سے مددگار ہے۔ یہ نہایت مفید تجربہ ہے۔ دوسرے مقامات کے ساتھیوں کو بھی اسی انداز پر کام کرنا چاہئے۔ ۷ آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی سے ۲۳ جون ۱۹۹۱ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ یہ عید الاضحیٰ سے متعلق تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ عید الاضحیٰ محض قدیم زمانہ کی ایک رسم نہیں، وہ زندگی کا ایک ابدی پیغام ہے۔

۸ مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ (تھنہ منڈی) اور مسلم انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (راجوری) ان دونوں تعلیمی اداروں نے "اسلامی تعلیمات" کو باقاعدہ طور پر داخل نصاب کر لیا ہے۔ چھٹی کلاس سے اوپر کلاسوں کے طلبہ کو وہ سبق کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

۹ ایک ادارہ نے الرسالہ مشن کے خلاف ساڑھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب چھاپی ہے۔ قارئین الرسالہ کے ایک تعلیم یافتہ حلقہ نے اس کتاب کو خریدا اور اجتماعی طور پر اس کا مکمل مطالعہ کیا۔ مطالعہ کے بعد انھوں نے پایا کہ یہ بالکل لغو کتاب ہے۔ وہ اس کتاب کو لے اسلامی مرکز میں آئے تاکہ اس کو صدر اسلامی مرکز کے سامنے جلائیں۔ صدر اسلامی مرکز نے ان کو منع کیا اور کہا کہ آپ یہ کتاب کسی اور شخص کو دے دیں تاکہ وہ اس کو پڑھ کر اس کی لغویت سے آگاہ ہو سکے۔ کیونکہ یہ کتاب اپنی تردید آپ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page