Al-Risala · December 1991 · page 18

نصیحت لقمان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸

کی تعمیر کرے ۔ اس زمین پر ضرورت کی ہر چیز انتہائی موزوں تناسب اور انتہائی صحیح مقدار میں موجود ہے۔ زمین اگر کائنات کے دوسرے اجسام ، مثلاً چاند اور مریخ کی مانند ہو تو یہاں انسان کے لئے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔

ایک غیر حکیم آدمی اس قیمتی دنیا کو صرف اس حیثیت سے جانے گا کہ وہ اس کے لئے ترقی کا شاندار میدان ہے ۔ وہ دنیا کے مواقع کو استعمال کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کرے گا اور سمجھے گا کہ یہ سب میری محنتوں کا نتیجہ ہے۔ مگر حکیم آدمی اس سوچ میں پڑ جائے گا کہ اتنی قیمتی دنیا کیسے ظہور میں آئی ۔ انسان خود تو اپنے لئے ایسی مفید اور موافق دنیا نہیں بنا سکتا۔ پھر کس نے اس کو بنایا۔

یہ حکیم آدمی کے سوچنے کا طریقہ ہے۔ اور جو آدمی اس طرح سوچے ، اس کو اس کی سوچ خالق کی دریافت تک پہنچادے گی۔ وہ اپنے خالق کو دریافت کرکے اس کا شکر ادا کرے گا۔ وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا، یہ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے میرے لئے ایک ایسی دنیا بنائی جہاں میری ضرورت اور ترقی کا ہر سامان انتہائی کامل صورت میں موجود ہے۔

اسی طرح ہر معاملہ میں غیر حکیم کی نگاہ سطحی پہلوؤں میں اٹک کر رہ جاتی ہے، اس لئے وہ ان سے صحیح سبق نہیں لے پاتا۔ مگر حکیم آدمی چیزوں کی گہرائی میں جاتا ہے۔ اس لئے اس کی نگاہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ شکر و سپاس کے جذبہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔

شکر سے غافل آدمی اپنی اُس جگہ پر نہیں پہنچتا جو اس کی حقیقی جگہ ہے۔ اس کے برعکس شکر کرنے والا آدمی اپنے اصل مقام کو پا لیتا ہے۔ شکر کا مزاج آدمی کو اپنے رب کی پہچان بھی کرا دیتا ہے ، اور اسی کے ساتھ خود اپنی پہچان بھی۔

" اور لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب کہ وہ اس کو وعظ کہہ رہے تھے ۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے جو باتیں کہیں ، وہ وعظ کے انداز میں کہیں ۔ وعظ سے مراد یہ ہے کہ بھلائی کی تلقین ایسے اسلوب میں کی جائے جو دل کو نرم کرنے والا ہو ( هو التذكير بالخير فيما يرق له القلب) مفردات امام راغب ۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو کسی نہ کسی طرح بس سنا دیا جائے ۔ یہ صرف کہنا ہے ، یہ وعظ و نصیحت نہیں ہے۔ وعظ اس کہنے کا نام ہے جس میں سنجیدگی ہو ، درد مندی ہو ، خیر خواہی ہو ، نرم گفتاری

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page