نصیحت لقمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹
ہو ، دل کی تڑپ ہو ، اصلاًاح کا سچا جذبہ ہو، وغیرہ۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے جو باتیں کہیں اس میں ان کا انداز صرف کہہ دینے کا نہیں تھا، بلکہ انھوں نے جو کچھ کہا ، خالص وعظ ونصیحت کے انداز میں کہا۔ اس کے لئے انھوں نے از دل خیزد بردل ریزد کا اسلوب اختیار کیا۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو پہلی نصیحت کی وہ یہ تھی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ شرک کی برائی تمام دوسری برائیوں کی جڑ ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کا واقعہ اصل دل کے اندر ابھرتا ہے اور پھر اس کی علامتیں اور اس کے مظاہر خارجی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ شرک بلا شبہ شکر خداوندی کی ضد ہے۔ ایک شخص جس کے اندر اپنے رب کے لئے تشکر کی کیفیت پیدا ہو چکی ہو ، وہ کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کر سکتا۔ شرک سب سے بڑی ناشکری ہے۔
آدمی کمپیوٹر کی مانند نہیں ہے۔ اس کے اندر شعور ہے ، اس کے اندر جذبات ہیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر خوف اور محبت کے جذبات پاتا ہے۔ اس کے اندر تعظیم اور تقدس کا احساس ہوتا ہے۔ اس قسم کے جذبات جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں، ان کا مرکز اگر ایک خدا کو بنایا جائے تو یہی توحید ہے۔ اور اگر ان جذبات کا مرکز خدا کے سوا کوئی اور چیز بن جائے تو اسی کا نام شرک ہے۔ موحد کی زندگی کا رخ خدا کی طرف ہوتا ہے اور مشرک کی زندگی کا رخ غیر خدا کی طرف ۔
حضرت لقمان نے کہا کہ ”شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ظلم کا مطلب ہے ــــ کسی چیز کو وہاں رکھنا جو اس کی جگہ نہ ہو (وضع الشيئ في غير موضعه) انسان کے اندر کسی کو بڑا ماننے، کسی کو اپنا سب کچھ سمجھنے، کسی سے امید اور خوف کرنے کے جو لطیف احساسات ہیں، ان کو ایک خدا کے لئے وقف کیا جائے تو یہ گویا ان احساسات کو اپنے صحیح مقام پر رکھنا ہوگا۔ اور اگر ان احساسات کو کسی اور کے لئے وقف کیا جائے تو یہ گویا ان احساسات کو غلط مقام پر رکھنا ہوگا ، پہلا آدمی موحد ہے، اور دوسرا آدمی مشرک۔ اللہ نے انسان کو اس کے والدین کے معاملہ میں حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ اللہ کی شکر گزاری کے بعد انسان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنے ماں اور باپ کے حقوق ادا کرے۔ ماں اور باپ کے حقوق میں بالقصد کوتاہی کسی حال میں جائز نہیں۔ خدا حقیقی معنوں میں انسان کا پالنے والا ہے۔ اور ماں باپ مجازی معنوں میں انسان کی پرورش کرنے والے۔
خدائی شریعتوں میں ماں باپ کی خدمت کو بہت ضروری بتایا گیا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے اعتبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues