نصیحت لقمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰
ان کا درجہ خدا کے بعد ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے انسان تم میرا شکر کرو اور اپنے والدین کا حق ادا کرو۔ دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا۔
اللہ کی حیثیت منعم حقیقی کی ہے۔ مگر اللہ کے بعد کسی انسان کے ساتھ سب سے زیادہ احسان کرنے والے اس کے والدین ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آدمی کی ماں، بچپن میں کئی سال تک اس کو پالنے اور پرورش کرنے کے لئے جو مصیبت اٹھاتی ہے، وہ کسی بھی آدمی کے سلوک سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے باپ اور خاص طور پر ماں کا حق آدمی کے اوپر بہت زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کی طرف سے اگر آدمی کو شکایت پیدا ہو تب بھی ان کے حقوق میں کمی کرنے کی اجازت نہیں۔
اس عام حکم میں صرف ایک استثناء ہے، وہ یہ کہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرا جائے تو اس وقت خدا کے حکم کو لے لینا ہے اور ماں باپ کے حکم کو چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس انتہائی موقع پر بھی صرف متعین معاملہ کی حد تک ماں باپ کی خلاف ورزی کرنے کا حکم ہے۔ عام انسانی برتاؤ اور خدمت کے معاملہ میں بدستور ماں باپ کے ساتھ وہی بہتر سلوک کرنا ہے جس کے وہ ماں باپ ہونے کی حیثیت سے مستحق ہیں۔ دینی فرائض کے معاملہ میں ان کی حکم عدولی کی جاسکتی ہے مگر دنیوی تعلقات کے معاملہ میں ان کے ساتھ معروف طریقہ کے مطابق ہی برتاؤ جائے گا۔
"اور پیروی صرف ان کے طریقہ کی کرو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ آخر کار سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر میں تم کو آگاہ کر دوں گا جو کچھ تم دنیا میں کر رہے تھے" یہ پیروی کے سلسلہ میں نہایت اصولی بات ہے۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا یا قوم کے لوگ جو کچھ کیا کرتے ہیں، بس اسی کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ آدمی جانچے اور پرکھے بغیر، جو کچھ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے، اسی کو خود بھی کرنے لگتا ہے۔ یہ گمراہی کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ گمراہی کوئی سادہ گمراہی نہیں ہے۔ آخرت میں اس پر سخت پکڑ ہونے والی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی سمجھ کو استعمال کرے۔ وہ ان لوگوں کا پیرو بنے جو سچی دلیل پر ہیں۔ وہ ان کی پیروی نہ کرے جو عصبیت کی بنیاد پر ایک راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلاتے ہیں۔
آدمی کے سامنے ہمیشہ دو قسم کے نمونے ہوتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔ جو
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues