نصیحت لقمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱
اللہ کی طرف رخ کر کے اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جو اللہ سے منحرف ہوں۔ جو اللہ کی ہدایت سے بے پروا ہو کر خود ساختہ رخ پر چل رہے ہوں۔ پہلا گروہ حق پر ہے اور دوسرا گروہ ناحق پر۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ پہلے گروہ کے راستے پر چلے ، خواہ وہ اس کے غیر ہوں۔ وہ دوسرے گروہ کا نموجو اختیار نہ کرے، خواہ وہ اس کے اپنے لوگ ہوں۔ خدا تقلید حق کو پسند کرتا ہے نہ کہ تقلید رجال کو۔ اس معاملہ میں حق پرستی کا طریقہ کوئی آسان طریقہ نبیں۔ آدمی جب خالص حق کو اپنا رہنما بناتا ہے تو اس کو لوگوں کی طرف سے بہت سی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ تم نے اپنے اکابر کے راستے کو چھوڑ دیا۔ تم اپنی قوم کے مسلک سے دور ہوگئے، مگر آدمی کو اس قسم کی باتوں کی پروا نہیں کرنا چاہئے ۔ آخر کار وہ وقت آنے والا ہے جبکہ خدا تمام حقیقتوں کو ظاہر کر دے۔ اس دن حق پرست لوگ سرخرو ہوں گے ، اور باطل کلام بولنے والی تمام زبانیں بند ہو جائیں گی۔ اس دن نہ ان کے پاس الفاظ ہوں گے کہ وہ بولیں اور نہ کوئی سننے والا ہو گا، نہ ان کی بات کو سنے۔ "کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو، یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، پھر بھی اللہ اس کو حاضر کرے گا، اللہ باریک ہیں ہے، خبردار ہے۔ "
موجودہ دنیا میں آدمی مختلف حالات کے درمیان ہوتا ہے۔ کبھی وہ بظاہر ایک چھوٹا عمل کرتا ہے اور کبھی بڑا عمل۔ کبھی وہ چھپے ہوئے مقام پر ہوتا ہے اور کبھی کھلے ہوئے مقام پر۔ کبھی وہ دور ہوتا ہے اور کبھی قریب۔ اس بنا پر آدمی اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کو اتنے مختلف احوال کی خبر نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ آدمی کی بھول ہے۔ خدا کا خدا ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر چھوٹے اور بڑے اور کھلے اور چھپے عمل کو جانے۔ وہ ہر نوعیت کے عمل سے پوری طرح باخبر ہو۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر آن اپنے آپ کو اللہ کی نگرانی میں سمجھے۔ وہ اس یقین کے ساتھ دنیا میں رہے کہ اللہ اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ جن لوگوں کے دل میں یہ احساس بیٹھ جائے ، ان کی پوری زندگی احتیاط اور ذمہ داری کی زندگی بن جائے گی۔ وہ بولیں گے تو اس احساس کے ساتھ بولیں گے کہ خدا ان کی بات کو سن رہا ہے۔ اور کچھ کریں گے تو یہ سوچتے ہوئے کریں گے کہ خدا ان کو ہر جگہ اور ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔
پھر فرمایا کہ نماز قائم کرو۔ آدمی کو جب اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ اللہ ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے اور آخر کار اس کا حساب لینے والا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues