Al-Risala · December 1991 · page 23

نصیحت لقمان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳

دعوت و اصلاح کا کام کوئی چیخ پکار کا کام نہیں۔ یہ بے حد سنجیدہ کام ہے۔ اس کو کرنے کے لئے آدمی کو عام اخلاقی سطح سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ اس کو وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو نفع و نقصان اور تعریف و تنقید اور موافقت و مخالفت سے بلند ہو کر کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ " اور لوگوں کے ساتھ بے رخی نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ "

آدمی کو جب کوئی ایسی چیز مل جائے جس میں بظاہر وہ دوسروں سے زیادہ دکھائی دیتا ہو۔ مثلاً صحت، مال، عہدہ، طاقت، خاندانی شرف، وغیرہ۔ تو ایسے موقع پر اس کے اندر فخر اور اکڑ کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ دوسروں کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرنے لگتا ہے۔ ایسی روش بہت بڑا جرم ہے۔ وہ کسی حال میں اللہ کو پسند نہیں۔

آدمی کو کوئی چیز کم ملے یا زیادہ، دونوں ہی اللہ کی طرف سے ہے۔ دونوں ہی امتحان کا پرچہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں وہ اپنی ساری توجہ اس پر لگائے کہ وہ اللہ کی آزمائش میں پورا اتر سکے، نہ یہ کہ کم ملے تو پست ہمت ہو جائے اور زیادہ ملے تو گھمنڈ اور برتری میں مبتلا ہو جائے۔ جو آدمی زیادہ پا کر فخر اور اکڑ میں مبتلا ہو جائے وہ بندوں کے سامنے بڑا بننے کی کوشش میں خدا کی نظروں اپنے کو چھوٹا اور حقیر بنا لیتا ہے، اور جو آدمی خدا کی نظر میں حقیر ہو جائے اس کو پھر کوئی بڑائی ملنے والی نہیں۔ " اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر۔ بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ "

" اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر" یہاں ظاہری کیفیت کا لفظ بول کر باطنی کیفیت کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ آدمی کو جب کوئی چیز مل جائے ۔ مثلاً صحت ، طاقت ، دولت ، عہدہ ، اقتدار، وغیرہ تو اس کے مزاج میں بڑائی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا اثر اس کی چال سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ظاہری چیزوں میں اس کو کم حصہ ملے، وہ کسی نقصان سے دوچار ہو جائے تو اس کی چال میں پست ہمتی اور احساس کمتری کا انداز دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں غلط ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اعتدال پر قائم رہے۔ اس کو کچھ ملے تو وہ فخر والی چال نہ چلے، اور اگر اس سے کچھ کھو جائے تو وہ مایوسی کی چال نہ اختیار کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page