نصیحت لقمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴
اسی طرح انسان کو گدھے کی مانند نہیں ہونا چاہئے۔ گدھا صرف ایک قسم کی آواز نکال سکتا ہے۔ وہ جب بھی بولے گا، کرخت اور بھدی آواز ہی بولے گا۔ لیکن انسان دونوں قسم کی آواز اپنے منہ سے نکالنے پر قادر ہے۔ سخت آواز بھی اور نرم آواز بھی۔ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے تاکہ وہ اس کو آزمائے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ انسان کو یہ خصوصی کریڈٹ دینا چاہتا ہے کہ اس نے خود اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت کڑی آواز کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اور صرف نرم آواز اپنے منہ سے نکالی۔ جو لوگ اپنے ملے ہوئے اختیار کا اس طرح صحیح استعمال کریں وہ اللہ کے یہاں بہت بڑا انعام پائیں گے۔
خلاصہ کلام
قرآن میں حضرت لقمان کا حوالہ جس طرح دیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک، لقمان کی حیثیت ایک مثالی باپ کی ہے۔ ایک باپ کے جذبات اپنے بیٹے کے بارہ میں کیا ہونے چاہئیں، اس کا بہترین نمونہ حضرت لقمان کی زندگی میں ملتا ہے۔
حضرت لقمان اپنے بیٹے سے نہ ذاتی حقوق کی کوئی بات کہتے اور نہ مادی یا دنیوی مفاد کے بارہ میں اس کو کوئی مشورہ دیتے ۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، تمام ترحق و صداقت کے بارہ میں کہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے ناصحانہ انداز میں کلام کرتے ہوئے اس کو توحید کی وصیت کی۔ انھوں نے اس کو اللہ کے سامنے جواب دہی کی یاد دلائی۔ انھوں نے اس کو اللہ کی عبادت اور عمل خیر کی تلقین کی۔ انھوں نے اس کو تاکید کی کہ دین کی راہ میں خواہ مشکلات و مصائب پیش آئیں ، تم کو ہر حال میں صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنا چاہئے ۔ کسی حال میں اس سے ہٹنا نہیں چاہئے۔
پھر حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تاکید کی کہ لوگوں کے درمیان وہ اچھے اخلاق کے ساتھ رہے، وہ تواضع اور اعتدال کی روش اختیار کرے ۔ اس کی روح میں عبدیت اس طرح شامل ہو جائے کہ اس کا اثر اس کے جسم پر اور اس کے اعضاء و جوارح پر ظاہر ہونے لگے۔ وہ دنیا میں انسان بن کر رہے، وہ گدھے کی مانند نہ ہو جائے۔ " گدھے کی طرح نہ بولو، کیوں کہ گدھے کی آواز سب سے بری آواز ہے" ـــــ حضرت لقمان کے اس قول میں بظاہر صرف گدھے کی آواز کا ذکر ہے۔ مگر آواز کا لفظ یہاں حصر کے طور پر نہیں بلکہ علامت کے طور پر ہے۔ اس کا پورا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا میں انسان بن کر رہو، تم گدھے بن کر نہ رہو۔ تم کو اوصاف انسانی کا پیکر ہونا چاہئے نہ کہ اوصاف حیوانی کا پیکر ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues