رہنما ئے حیات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵
بیٹا کسی آدمی کے لئے اللہ کی ایک نعمت ہے۔ بلکہ وہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ کوئی شخص خود سے اپنے لئے ایک بیٹا پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف اللہ ہے جو کسی کو بیٹا جیسی قیمتی چیز عنایت فرماتا ہے۔ کارخانہ قدرت کے سوا کہیں اور سے ایک بیٹے کی تخلیق ممکن نہیں۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ جب اس کو اولا دملے تو اس کو تمام تر اللہ کا عطیہ سمجھے۔ اس عطیہ کی شکر گزاری میں وہ ہمہ تن اللہ کا فرماں بردار بندہ بن جائے اور اپنی اولاد کے لئے بھی یہی چاہے کہ وہ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری میں زندگی گزارے۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ ایسا باپ بنے جس کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہو کہ اس کا بیٹا صحیح معنوں میں اللہ والا بن کر دنیا میں رہے، وہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ وہ پوری طرح اللہ کا عبادت گزار بن جائے، وہ لوگوں کا خیر خواہ ہو۔ وہ تمام بڑوں کے ساتھ اپنے بھائی جیسا سلوک کرے اور تمام چھوٹوں سے وہ معاملہ کرے جو وہ اپنی اولاد کے ساتھ کرتا ہے۔
اللہ سے تعلق جب صحیح معنوں میں پیدا ہوتا ہے تو وہ آدمی سے اس کی انا کو چھین لیتا ہے۔ اس کے بعد اس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگتا ہے ۔ لوگ اس کو تکلیف پہنچائیں تب بھی وہ لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچاتا۔ لوگوں کے منفی رویہ کے باوجود وہ ان کے ساتھ مثبت رویہ کے اصول پر قائم رہتا ہے۔ ایسا آدمی ہر معاملہ میں اللہ کی پسند کو اپنا ر ہنما بنا لیتا ہے نہ کہ ذاتی پسند کو۔ وہ ہر ایک کے ساتھ خدا کے مقرر کئے ہوئے اصول کے تحت معاملہ کرتا ہے نہ کہ اپنے نفس سے اٹھنے والی خواہشوں کے تحت۔
رہنما ئے حیات
جنوری ۱۹۹۲ کا الرساله انشاء اللہ خصوصی نمبر ہوگا۔ اس کا نام "رہنمائے حیات" ہوگا۔ اس میں زندگی کی تعمیری رہنمائی سے متعلق باتیں درج ہوں گی۔ اصحاب ایجنسی مزید مطلوبہ تعداد سے فوراً مطلع فرمائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues