ہر سخن موقع و ہر نکتہ مکانے دارد
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۵
سیاست کے محاذ پر مسلسل زور آزمائی کر رہے ہیں۔ اس طویل مدت میں ایک دن کے لئے بھی انھوں نے یہ "غیر متوازن" طریقہ اختیار نہیں کیا کہ اپنی ساری طاقت صرف ذہنی بیداری کے محاذ پر لگادیں اور سیاست کے عملی محاذ کو خالی چھوڑ دیں۔ اس تین سو سالہ متوازن عمل کے باوجود ملت کی بربادی میں صرف اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ملت کا احیاء اب تک کسی بھی درجہ میں واقعہ نہ بن سکا۔ کیا یہ تجربہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں مکمل طور پر تدریجی انداز میں عمل فرمایا۔ چنانچہ ابتدائی ۱۳ سال تک آپ پوری طرح سیاست اور جہاد کے میدان سے دور رہے ۔ اس مدت میں آپ کی ساری کوشش اس امر پر مرکوز رہی کہ آپ لوگوں کے اندر ایمان کی اسپرٹ مکمل طور پر بیدار کر دیں۔ گویا نصف سے زیادہ مدت میں آپ نے عملی سیاست سے "صبر" کا طریقہ اختیار فرمایا نہ کہ اس میں داخل ہونے کا۔
موجودہ زمانہ میں جاپان اس طریق کار کی ایک مثال ہے۔ ۱۹۲۵ء کے بعد اس نے قومی حقوق کی سیاست کو یکسر ترک کر دیا اور صرف سائنسی تعلیم اور ٹیکنکل ریسرچ کے میدان میں اپنی ساری توجہ لگا دی۔ حالات بتاتے ہیں کہ جاپان نے ۳۰ سالہ "غیر متوازن" محنت سے وہ کامیابی حاصل کر لی جو مسلمان ۳۰ سالہ "متوازن" محنت کے بعد بھی حاصل نہ کر سکے۔ ہندوستان میں عیسائی فرقہ عملی سیاست سے بالکل الگ رہتا ہے۔ مگر تعلیم کے میدان میں وہ تمام فرقوں سے آگے ہے۔ مسلمان تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد مسلسل سیاست کے ہنگاموں میں مشغول رہے۔ اس کے باوجود ، ایجو کیشن منسٹری کی رپورٹ کے مطابق، مسلمان سب سے زیادہ تعلیمی پسماندگی میں مبتلا ہیں۔ حتی کہ تعلیم کے میدان میں وہ ہر یجنوں سے بھی زیادہ پیچھے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طریقہ تدریج کا ہے نہ کہ توازن کا۔ تجربہ اور اصول دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ساری قوت ابتدائی تعمیر کے محاذ پر لگادی جائے۔ اس وقت ہم تاریخ کے آغاز میں ہیں ، ہم تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ اور جو لوگ تاریخ کے آغاز میں ہوں ان کے لئے عمل کا اصول صرف ایک ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو الاقدم فالاقدم کہا گیا ہے ۔ اسی کا دوسرا نام تدریج ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues