Al-Risala · December 1991 · page 37

سفر پيٹھہ ۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷

کوئی فکری اسی وقت عمومی تبدیلی لاسکتا ہے جب کہ وہ نظریہ نہ رہے بلکہ انقلاب بن جائے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس وقت مسلم دنیا میں بہت سی اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں آپ اپنے اور ان کے درمیان کیا فرق سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان مختلف تحریکوں کو وسیع تقسیم (broad division) میں دو قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جو اسلام کو دعوت و تبلیغ کے مشن کے طور پر لے کر اٹھی ہیں۔ دوسری وہ جو سیاسی انقلاب کے مقصد کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ایک کا نشانہ اگر ”دعوتی اسلام“ ہے۔ تو دوسرے کا نشانہ ”سیاسی اسلام“۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صحیح اسلامی تحریک ہے جو ”دعوتی اسلام“ کے لئے اٹھے۔ ”سیاسی اسلام“ کولے کر اٹھنے والوں کا کیس صراط مستقیم سے انحراف (deviation) کا کیس ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اتباع سبل ہے نہ کہ اتباع صراط۔

یہ اس معاملہ کا نظری پہلو ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ دعوتی اسلام کی موجودہ تحریک زیادہ تر ”فضائل“ کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے، جب کہ سیاسی یا انقلابی اسلام کی تحریک ”دلائل“ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوتی اسلام کے مشن کی صحت کے باوجود است کا انٹلکچوئل طبقہ (intellectual class) ابھی تک اس سے جڑ نہ سکا۔ یہ طبقہ جس کو خواص کا طبقہ کہا جاسکتا ہے، وہ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے بات کو دلائل کے اسلوب میں سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر دعوتی اسلام کے حاملین کا موجودہ انداز خطاب ان کے دلائل پسند مزاج کو مطمئن نہیں کر پاتا۔ اسی بنا پر آج یہ صورت حال ہے کہ امت کا طبقہ خواص کا بیشتر حصہ سیاسی اسلام سے قریب اور دعوتی اسلام سے دور ہے۔

الرسالہ مشن کا خاص مقصد ”دعوتی اسلام“ کو دلائل کی بنیاد پر کھڑا کرنا ہے تاکہ امت کا ذہین اور باشعور طبقہ دعوتی اسلام کی اہمیت کو سمجھے اور اپنے آپ کو اس مہم میں لگائے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کیوں کہ امت کا طبقۂ خواص جب تک دعوتی مشن میں نہ لگے، صرف طبقۂ عوام کی بنیاد پر کوئی گہری تحریک برپا نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ کوئی بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

”دعوتی اسلام“ کے موجودہ طریقہ کے ذریعہ محدود معنوں میں عوام کے اندر کچھ اصلاح کا کام دسمبر ۹۱ | الرسائل 37

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page