سفر پيٹھہ ۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸
کیا جاسکتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ اسلام کی از سر نو تاریخ بنانے کا ہے جس کو تجدیدِ دین کہا جاتا ہے۔ اور حقیقی تجدیدِ دین اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وقت کے اہلِ فکر اور اہل علم کو دعوتی اسلام کا حامی نہ بنایا جائے۔
مقالات اور سوال وجواب کے بعد میری تفصیلی تقریر ہوئی۔ میں نے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سمپوزیم گو یا میرے خواب کی تعبیر ہے۔ پندرہ سال پہلے الرسالہ کے نام پر سمپوزیم کیا جاتا تو شاید چند آدمی بھی جمع نہ ہوتے۔ کیوں کہ اس وقت الرسالہ ایک غیر معروف لفظ تھا۔ آج الرسالہ اور اس کا مشن ایک معروف عام لفظ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ " الرسالہ سمپوزیم " کو اتنی کامیابی کے ساتھ منعقد کرنا ممکن ہوا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور میں اپنی طرف سے اور آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
پھر میں نے کہا کہ آج کی ایک خاتون مقالہ نگار انشو تراجو دھری نے اپنے مقالہ میں کہا ہے کہ (correct thinking) الرسالہ کا مقصد کرکٹ تھنکنگ پیدا کرنا ہے۔ یہ الرسالہ کے مشن کی صحیح ترجمانی ہے۔ ہمارا خاص مقصد یہی ہے کہ لوگوں کے اندر صحیح سوچ پیدا ہو۔ وہ مسائل کے بارہ میں صحیح زاویہ سے رائے قائم کریں اور فطرت کے سچے اصولوں کی روشنی میں اپنی زندگی کا سفر طے کریں۔
میں نے کہا کہ مثال کے طور پر اس عام مسئلہ کو لیجئے جو تمام لوگوں کے ذہنوں پر چھایا ہوا ہے یعنی فرقہ وارانہ مسئلہ۔ بہت سے لوگ اس مسئلہ کو ایک فرقہ کے اوپر دوسرے فرقہ کا تعصب اور زیادتی سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کرکٹ تھنکنگ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعصب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کا چیلنج ہے۔ اور یہ چیلنج ہمیشہ باقی رہے گا۔
قرآن اور تاریخ کی تفصیلات دیتے ہوئے میں نے کہا کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کا نظام مقابلہ اور چیلنج کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ چیلنج ترقی کا زینہ ہے۔ چیلنج سے صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ وہ افراد اور قوموں کو معمولی حالت سے اٹھا کر غیر معمولی حالت کی طرف لے جاتا ہے۔ ہم کو چاہئے کہ ہم تعصب اور امتیاز کے الفاظ کو اپنی ڈکشنری سے نکال دیں۔ ہم اپنے مسائل کو چیلنج کی حیثیت سے دیکھیں۔ ہمارے لئے اس کے سوا کوئی اور چوائس نہیں۔ کیوں کہ زندگی کا یہ مقابلا تی نظام خود خالق نے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues