Al-Risala · December 1991 · page 40

سفر پيٹھہ ۳

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰

اجتماع سمجھا جائے۔ انھوں نے مذکورہ تاریخ کو آدھے دن کے لئے لائبریری بند کر دی تاکہ سمپوزیم کی کارروائی بآسانی جاری رہ سکے۔

لائبریرین ڈاکٹر محمد نظام صاحب اور ان کے اسٹاف کے دوسرے ممبروں کا بھر پور تعاون سمپوزیم کے منتظمین کو حاصل رہا۔ انھوں نے کھلے دل سے اس کے حسنِ انتظام کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا اجتماع اب تک لائبریری ہال میں کوئی نہیں ہو اتھا۔ یہ سمپوزیم نہ صرف پر یز دوردی ہے بلکہ وہ ریکارڈ توڑ دی ہے۔

سمپوزیم کے منتظمین نے ہال کو " الرساله اور ینٹڈ ہال" بنا دیا تھا۔ ہال میں چاروں طرف الرسالہ کے صفحہ اول کے اقوال اردو، ہندی اور انگریزی میں دکھائی دے رہے تھے۔ وہ جلی حرفوں میں لکھ کر دیواروں پر لگائے گئے تھے۔ مثلاً یہ قول کہ کوئی آدمی کسی کا چراغ نہیں بجھاتا ، چراغ کے اندر تیل کی کمی چراغ کو بجھا دیتی ہے ، وغیرہ۔ اس طرح ہال میں ہر طرف الرسالہ کا ماحول قائم ہوگیا تھا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں جب یورپ میں سائنس کا رواج ہوا تو سائنس لوگوں کے درمیان فیشن کی طرح پھیلنے لگی۔ ہر گھر گویا ایک تجربہ گاہ بن گیا جہاں چھوٹے اور بڑے لوگ طرح طرح کے سائنسی تجربات میں مصروف رہتے تھے۔ ہر طرف سائنس کا چر چا پھیل گیا۔ یہاں تک کہ وہ واقعہ پیش آیا جس کو سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ الرسالہ کا مشن بھی اسی طرح گھر گھر اور بستی بستی میں پھیل جائے۔ لوگ اس کے بارے میں سوچیں ، اس کے اوپر مذاکرہ کریں ، اس کے انداز پر مطالعہ کریں۔ اس کی بنیاد پر اجتماعات کریں۔ الرسالہ کی تحریک ایک لہر کی صورت اختیار کر لے۔ یہ لہر بڑھتی رہے، یہاں تک کہ پوری ملت کے اندر ایک مکمل فکری انقلاب آجائے۔

پٹنہ کے ساتھیوں نے یہ طے کیا کہ وہ " الرسالہ لائبریری " قائم کریں گے۔ ماہانہ اجتماع کا سلسلہ شروع کریں گے۔ اسٹڈی سرکل کی صورت میں کام کو آگے بڑھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔

۲۹ جولائی کی شام کو دوبارہ گندھ اکسپریس سے واپسی ہوئی۔ ٹرین میں رات کو سور ہا تھا کہ خواب دیکھا کہ میں کسی مکان کی چھت پر ہوں اور وہاں تیز زلزلہ آگیا ہے۔ دیر تک پورا مکان ہلتا رہا۔ ۔ میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page