سفر پيٹھہ ۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۱
مکان کی چھت پر کھڑا ہوا یہ کہہ رہا ہوں کہ یا اللہ، کیا ہونے والا ہے۔
یہ محض خواب تھا، کوئی حقیقی زلزلہ نہ تھا۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوا۔ سمجھ میں آیا کہ اس وقت جب کہ میں سورہا تھا، ٹرین مسلسل ہل رہی تھی۔ میری آنکھ اور میرا شعور نیند کی وجہ سے معطل تھے مگر میرا لاشعور ٹرین کے ہلنے کو محسوس کررہا تھا۔ اسی مجہول احساس کو میں نے خواب میں زلزلہ کی صورت میں دیکھا۔
پھر یاد آیا کہ پٹنہ میں جناب مصطفیٰ کمال صدیقی نے کہا تھا کہ الرسالہ مشن کا ساتھ دینے کے لئے اس چیز کی ضرورت ہے جس کو " اللہ اکبر" میں زلزلہ درکار ہے (صفحہ ۶۲) کے عنوان کے تحت بتایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ لوگ اپنے اندر زلزلہ لانے کے لئے تیار نہیں، اسی لئے وہ الرسالہ کا ساتھ دینے کے لئے بھی تیار نہیں۔
مجھے کمال صدیقی صاحب کی رائے سے اتفاق ہے۔ الرسالہ نبأ عظیم کا نقیب ہے۔ اس کے قافلہ میں صرف وہ روحیں شریک ہوسکتی ہیں جو قیامت سے پہلے اپنے آپ کو قیامت کے میدان میں کھڑا ہوا دیکھیں۔ جن کی حساسیت کا یہ حال ہو کہ حقیقی بھونچال تو در کنار، پتہ کا کھڑکنا اور سواری کا ہلنا بھی ان کے لئے زلزلہ الٰہ عہ کی پیشگی خبر بن جائے۔ ایسے ہی لوگ الرسالہ مشن کا ساتھ دیں گے۔ اور امکانی طور پر آج بھی ایسے بے شمار لوگ خدا کی دنیا میں موجود ہیں۔
۳۰ جولائی ۱۹۹۱ کی دوپہر کو میں دہلی واپس پہنچا۔
دہلی واپسی کے بعد پٹنہ سے متعدد خطوط اور پیغامات موصول ہوئے۔ یہاں ان میں سے چند خط کے کچھ حصے نقل کئے جاتے ہیں۔ جناب ڈاکٹر شری نواس صاحب (تری بھون ہیلتھ سنٹر، پٹنہ) نے الرسالہ انگریزی کو مستقل طور پر اپنے مطالعہ میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی کتب بھی انھوں نے مطالعہ کے لئے حاصل کی ہیں۔ ان کے خط مورخہ یکم اگست ۱۹۹۱ کا ایک پیراگراف یہاں ان کے اپنے الفاظ میں نقل کیا جاتا ہے:
I consider it a great privilege to have met such a noble intellectual as yourself. It was indeed a treat to have listened to your fine and brilliant discourse. Your novel approach to our social and communal problems is most welcome. (Dr. Shreenivas)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues