سفر پيٹھہ ۳
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
جناب محمد کمال صدیقی ( اورینٹل بینک آف کامرس ، پٹنہ ) اپنے تفصیلی خط مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۹۱ میں لکھتے ہیں :
" آپ سے ملنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ جس آدمی سے میری ملاقات تحریری طور پر ہوتی ہے وہ کتنا کا مپلکس (complex) ہے ، اور اسی آدمی سے جب میری ملاقات براہ راست ہوتی ہے تو وہ کتنا سمپل (simple) ۔ بولنے میں آپ جس قدر کم سخن ہیں شاید اسی وجہ سے سوچنے کے اعتبار سے آپ گہرے ہیں۔ دو چیزیں میں آپ سے اپنے اندر منتقل کر رہا ہوں ۔ ایک صبر اور دوسرافکر۔ اور جب بھی کسی معاملہ میں میں صبر سے کام لیتا ہوں تو میرا اعتماد اپنے آپ میں اور خدا میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دراصل میں آپ کی کتابیں پڑھتا ہوں تو اپنی فطرت کو سراسر اس کے مطابق پاتا ہوں۔ اور کچھ وارداتیں بھی میرے ساتھ ایسی گزری ہیں کہ میرا دل آپ کے ذریعہ بتائے گئے دین اسلام کی تصدیق کرتا ہے۔ بھونچال کی شکل میں میں نے اپنی پچھلی زندگی کو خیر باد کہا ہے اور پورے شعور کے ساتھ یہ فیصلہ لیا کہ اگلی زندگی کو دین پر چلانا ہے۔ پہلے میں گالیوں سے یا لوگوں کی اوچھی حرکتوں سے بدظن ہو جایا کرتا تھا اور جواب میں ایسی حرکتیں کر جاتا تھا جو تمام تر رد عمل کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں۔ لیکن اب یہ سب چیزیں میرے نزدیک سینگ لس (meaningless) ہو گئی ہیں۔ ان باتوں پر بے چینی تو اب بھی ہوتی ہے۔ مگر اب وہ لوگ جواوچھی حرکتیں کرتے ہیں معذور نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ مجھے جو معلوم ہے وہ ان کو معلوم نہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ لوگوں کو برتر حقیقتوں سے باخبر کیا جائے ۔ " اللہ اکبر " پڑھ کر میں نے جانا کہ اللہ سے قریب ہونے کی ایک قیمت ہے جس کو ہمیں ادا کرنا ہے ... ویسے جنت کی کنجی تو آپ سونپ گئے ہیں۔ دیکھئے اس کا بوجھ اٹھانے میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مدد فرمائے۔ "
مسٹر ایم ٹی خان ( عدالت گنج ، پٹنہ ) کا چار صفحہ کا خط موصول ہوا ہے۔ انھوں نے کئی ضروری باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔
انھوں نے لکھا ہے کہ پٹنہ کے الرسالہ سمپوزیم میں جن افراد نے فکری اور عملی تعاون دیا تھا ، ان سب کے نام اسلامی مرکز کی طرف سے شکریہ کا خط جانا چاہئے تھا جوان کو نہیں بھیجا گیا۔ یہ واقعی ہمارے لئے کوتاہی کی بات ہے۔ ہم ایسے تمام لوگوں سے گزارش کریں گے کہ وہ ہماری اس
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues